کمشنر دفتر میں غیر متعلقہ ملازمین تعینات، امور متاثر
اہل افسرنظر انداز،جنرل بس سٹینڈبی کلاس کاملازم پی ایس او لگ گیا،نااہل ملازمین کی اجارہ داری پر ایڈیشنل کمشنرز سمیت سینئر افسروں اورماتحت عملے کوتشویش
فیصل آباد(ذوالقرنین طاہر سے )کمشنر آفس میں غیر متعلقہ ملازمین کا راج،افسروں اور ماتحت عملے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی،ڈویژن بھر کے انتظامی معاملات متاثر ہونے کا خدشہ،اہلیت رکھنے والے افسروں کو نظر انداز کرکے جنرل بس سٹینڈ بی کلاس کے ملازم کو پی ایس او جیسے اہم عہدے پر تعینات کرنا بڑا سوالیہ نشان بن چکا ہے تفصیلات کے مطابق کمشنر آفس میں غیر متعلقہ اور نااہل ملازمین کی اجارہ داری پر ایڈیشنل کمشنرز سمیت سینئر افسروں اور ماتحت عملے میں تشویش پائی جارہی ہے۔
جنرل بس سٹینڈ بی کلاس کا ملازم صادق سواتی جو جنرل بس سٹینڈ میں ڈیوٹی کرنے کی بجائے مختلف اداروں کے افسروں کے ساتھ پروٹوکول کی ڈیوٹیاں کرچکا ہے صادق سواتی کو ڈی سی دفتر میں کنٹرول روم انچارج کی اہم ذمہ داری دی گئی تھی فروری 2024 میں رمضان بازاروں کا فوکل پرسن بھی بنا دیا گیا تھا اور روزنامہ دنیا نے یکم مارچ 2024 کو رپورٹ کیا تھا ذرائع کے مطابق صادق سواتی ڈی سی دفتر کنٹرول روم پوسٹنگ کے دوران اپنی گاڑی پر نیلی بتی اور سبز نمبر پلیٹ لگا کر مختلف محکموں کے افسروں اور ملازمین کو ہراساں کرتا رہا اسی ملازم پر الیکشن ڈیوٹی میں اپنوں کو نوازنے 112 افراد کی عارضی حاضری لگا کر رقم کی وصولی کی استدعا کرنے اور الیکشن کے دوران ڈیوٹیاں انجام دینے والا عملہ تا حال واجبات سے محروم رکھنے کا معاملہ بھی سامنے آیا تھا۔
یہ معاملہ بھی روزنامہ دنیا نے 23 فروری 2024 کو رپورٹ کیا تھا جسکے بعد 27 اگست 2024 کو سابق ڈپٹی کمشنر ندیم ناصر کی جانب سے مبینہ کرپشن اور اختیارات سے تجاوز کے الزام میں صادق سواتی کو واپس سیکرٹری ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کو رپورٹ کرنے کا حکم دیا تھا اب نئے تعینات ہونے والے کمشنر عمران حامد شیخ کو اندھیرے میں رکھتے ہوئے مبینہ کرپشن اور اختیارات سے تجاوز کرنے پر ڈی سی آفس سے نکالے جانے والے جنرل بس سٹینڈ بی کلاس کے ملازم نے کمشنر آفس میں پرسنل سٹاف آفیسر کی اہم سیٹ پر تعیناتی حاصل کرلی ہے اور کمشنر کے ساتھ ہر سرکاری تقریب اور نجی دورے میں ساتھ ہوتا ہے۔سینئرافسروں اور متعلقہ ملازمین کے ہوتے ہوئے جنرل بس سٹینڈ کے ملازم کو اتنی اہم سیٹ پر تعینات کرنا اہل ملازمین کی حق تلفی کے برابر ہے جس سے افسروں ا ور ملازمین میں تشویش پائی جارہی ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments