بس اڈوں اور موٹرویز پر گرانفروشی عروج پر، اشیاء دگنے داموں فروخت، شہریوں کی شکایات پر بھی بے سود
بیشتر اشیا پر میعاد ختم ہونے کی تاریخ بھی درج نہیں ہوتی، نرخ عام دکانوں سے کہیں زیادہ وصول کیے جاتے ہیں،قیام و طعام مراکز پر مقررہ نرخوں اور معیار کی پابندی یقینی بنائی جائے :شہریوں کامطالبہ
فیصل آباد (خصوصی رپورٹر) ضلعی انتظامیہ اور موٹروے پولیس کی مبینہ غفلت کے باعث بس اڈوں کی کینٹینز اور موٹرویز کے قیام و طعام مراکز پر گرانفروشی کا سلسلہ نہ رک سکا۔ مختلف اشیا مقررہ نرخوں سے دگنے تک داموں فروخت کی جا رہی ہیں، جبکہ شہریوں کی شکایات پر بھی مؤثر کارروائی نہیں کی جا رہی۔تفصیلات کے مطابق بس اڈوں کی کینٹینز اور موٹروے کے ریسٹ ایریاز میں ناقص اور غیر معیاری اشیا مہنگے داموں فروخت کیے جانے کی شکایات عام ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان کینٹینز کے ٹھیکے کروڑوں روپے میں دیے جاتے ہیں، جسکے بعد انتظامیہ مبینہ طور پر ٹھیکیداروں کو مقررہ نرخوں اور معیار کی پابندی کے حوالے سے چیک نہیں کرتی۔ہسپتالوں، بس اڈوں اور ریلوے سٹیشنز کی کینٹینز پر مقامی کمپنیوں کی غیر رجسٹرڈ اور غیر معیاری اشیا بھی فروخت ہونے کی شکایات ہیں۔ بیشتر اشیا پر میعاد ختم ہونے کی تاریخ بھی درج نہیں ہوتی،
جبکہ ان کے نرخ عام دکانوں سے کہیں زیادہ وصول کیے جاتے ہیں۔دوسری جانب موٹروے کے قیام و طعام مراکز پر اشیا کا معیار نسبتاً بہتر ہونے کے باوجود ان کی قیمتیں مقررہ نرخوں سے دگنی یا اس سے بھی زیادہ وصول کیے جانے کی شکایات ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ شکایات کے باوجود متعلقہ ادارے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کرتے ۔شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور موٹروے پولیس گرانفروشی اور غیر معیاری اشیا کی فروخت کے خلاف مؤثر کارروائی کریں اور قیام و طعام مراکز پر مقررہ نرخوں اور معیار کی پابندی یقینی بنائی جائے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments