ترشاوہ باغات گریننگ سے بچانے کیلئے جدید باغبانی پر زور

 ترشاوہ باغات گریننگ سے بچانے کیلئے جدید باغبانی پر زور

انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹیکلچر سائنسز، زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے زیر اہتما سیمینار

فیصل آباد(سٹی رپورٹر)زرعی ماہرین نے ترشاوہ پھلوں کے کاشتکاروں کو خبردار کیا ہے کہ ترشاوہ باغات کو گریننگ بیماری سمیت مختلف بیماریوں، ماحولیاتی اثرات اور پیداواری مسائل سے محفوظ رکھنے کے لیے بیماری سے پاک نرسریوں کا قیام، کھادوں کا متوازن استعمال، جڑی بوٹیوں کی مؤثر تلفی، مناسب آبپاشی اور جدید باغبانی طریقوں کو اپنانا ناگزیر ہے ۔ان خیالات کا اظہار مقررین نے انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹیکلچر سائنسز، زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے زیر اہتمام چک جاکھڑا 332 گ ب میں منعقدہ ترشاوہ پھلوں کے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سیمینار بعنوان ‘‘ترشاوہ باغات کی بڑھوتری اور پیداوار بہتر بنانے کے لیے نباتاتی افزائشی ضابطہ کار کا استعمال’’ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے مالی تعاون سے جاری منصوبے ‘‘موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ ترشاوہ جرثوموں کا تعارف اور جدید ترشاوہ باغ کا قیام’’ کے تحت منعقد کیا گیا۔

سیمینار کا انعقاد چین پاکستان باغبانی تحقیق و مظاہراتی مرکز اور چین کی ہواژونگ زرعی یونیورسٹی کے اشتراک سے کیا گیا۔ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد اعظم نے کاشتکاروں کو ہدایت کی کہ باغات میں کھادوں کے متوازن استعمال، مناسب آبپاشی، بروقت شاخ تراشی اور خشک و بیمار شاخوں کی تلفی کو یقینی بنایا جائے ۔انہوں نے کہا کہ بدلتے موسمی حالات، درجہ حرارت میں اتار چڑھاؤ اور دیگر ماحولیاتی دباؤ کے باعث ترشاوہ باغات کی پیداواری صلاحیت برقرار رکھنے کے لیے روایتی طریقوں کے بجائے جدید اور موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ باغبانی طریقوں کو اپنانا ہوگا۔ پانی کے مؤثر استعمال، بہتر باغاتی انتظام اور موسمیاتی دباؤ برداشت کرنے والی حکمت عملی کے ذریعے پھلوں کی پیداوار اور معیار کو برقرار رکھا جاسکتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...