خواتین، بچوں کا چور گروہ سر گرم، گھروں میں وارداتیں
پانی پینے ، راستہ پوچھنے اور دوسرے بہانوں سے چوریاں عام ،سی سی ٹی وی فوٹیج اور تصاویر سامنے آنے کے باوجود پولیس ملزموں تک پہنچنے میں ناکام
فیصل آباد (عبدالباسط سے ) خواتین اور بچوں پر مشتمل گھروں میں داخل ہوکر چوری کی وارداتیں کرنے والا متحرک گروہ مبینہ طور پر پولیس کی گرفت سے باہر ہے ۔ خواتین اور بچوں پر مشتمل چور گروہ کی جانب سے پانی پینے ، راستہ پوچھنے اور دیگر بہانوں سے شہریوں کے گھروں میں داخل ہوکر موبائل فونز، نقدی، زیورات اور دیگر قیمتی سامان چوری کرنے کے واقعات آئے روز سامنے آنے لگے ہیں۔ گھروں میں داخل ہوکر چوری کی وارداتوں میں ملوث گروہ کے ارکان کی تصاویر اور ویڈیوز سامنے آنے کے باوجود پولیس ان تک پہنچنے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کرنے میں مبینہ طور پر ناکام دکھائی دیتی ہے ۔ذرائع کے مطابق پاکستان کے تیسرے بڑے اور ایک کروڑ سے زائد آبادی والے شہر فیصل آباد میں چوری، راہزنی، ڈکیتی اور لوٹ مار سمیت دیگر وارداتوں میں ایک بار پھر مبینہ طور پر اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے ۔ ایک طرف ڈکیتی، چوری، راہزنی اور نوسر بازی سمیت دیگر لوٹ مار کی وارداتوں میں اضافہ ہو رہا ہے تو دوسری جانب خواتین اور بچوں پر مشتمل چور گروہ دن دیہاڑے شہریوں کے گھروں میں راستہ پوچھنے ، پانی پینے یا دیگر کاموں کے بہانے داخل ہوکر وارداتیں کرنے لگے ہیں۔ایسے گروہوں کا شکار ہونے والے متاثرہ افراد کے مطابق خواتین اور بچے گھروں میں داخل ہوکر وہاں موجود افراد کو مختلف طریقوں سے باتوں میں الجھا لیتے ہیں، جبکہ گینگ کے دیگر ارکان اس دوران گھر کے دوسرے کمروں میں داخل ہوکر الماریوں، میزوں اور دیگر جگہوں کی تلاشی لیتے ہیں اور نقدی، موبائل فونز، زیورات سمیت دیگر قیمتی سامان چوری کرکے فرار ہو جاتے ہیں۔ذرائع کے مطابق ان وارداتوں میں ملوث خواتین، بچوں اور دیگر افراد کی سی سی ٹی وی فوٹیج اور تصاویر بھی سامنے آتی رہتی ہیں، جن میں ان کے چہرے واضح دکھائی دیتے ہیں۔ اس کے باوجود پولیس جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لاتے ہوئے ملزمان تک رسائی حاصل کرنے اور انہیں گرفتار کرنے میں مبینہ طور پر ناکام دکھائی دیتی ہے ۔شہریوں نے پولیس حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈکیتی، چوری اور راہزنی سمیت دیگر سنگین جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف مؤثر اور عملی اقدامات کیے جائیں ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments