منشیات سے بچاؤ ، تعلیمی اداروں میں مہم چلانے کا فیصلہ

منشیات سے بچاؤ ، تعلیمی اداروں میں مہم چلانے کا فیصلہ

خفیہ معلومات کی بنیاد پر جرائم پیشہ عناصر کیخلاف سخت قانونی کارروائیاں کرنے کے لیے اقدامات تیز کر دئیے گئے ،خصوصی ٹیمیں تشکیل دی جائینگی ،پو لیس کو خصوصی ٹاسک

فیصل آباد (عبدالباسط سے )منشیات فروشی کی روک تھام اور نوجوان نسل، بالخصوص طلبہ و طالبات کو منشیات کے ناسور سے بچانے کے لیے پولیس نے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں۔ تعلیمی اداروں میں آگاہی سیمینارز منعقد کرنے اور خفیہ معلومات کی بنیاد پر جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائیاں کرنے کے لیے اقدامات تیز کر دئیے گئے ہیں۔پولیس افسران و ملازمین، اساتذہ، طلبہ و طالبات اور تعلیمی اداروں کے انتظامی عہدیداروں پر مشتمل خصوصی ٹیمیں تشکیل دے کر منشیات فروشی اور اس کے استعمال میں ملوث افراد کا سراغ لگانے کے لیے حکمت عملی کے تحت کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں۔ منشیات فروشوں کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے اور شہر کو منشیات سے پاک کرنے کے لیے تھانوں اور پولیس چوکیوں میں تعینات افسران و ملازمین کو بھی خصوصی ٹاسک سونپ دئیے گئے ہیں۔آر پی او کے احکامات کے مطابق ضلع بھر کے تمام تھانوں اور پولیس چوکیوں میں تعینات افسران و ملازمین کو منشیات فروشوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرتے ہوئے شہر کو منشیات سے پاک کرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے ۔

منشیات فروشوں کی جانب سے کھلے عام منشیات کی فروخت کے باعث نوجوان نسل، بالخصوص طلبہ و طالبات کے اس لعنت کا شکار ہونے کے خدشات کے پیش نظر پولیس نے سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم طلبہ و طالبات کو منشیات کے استعمال سے دور رکھنے کے لیے خصوصی آگاہی مہم چلانے کی حکمت عملی بھی تیار کی ہے ۔اس مہم کے تحت پولیس افسران و ملازمین، اساتذہ، طلبہ و طالبات اور تعلیمی اداروں کے انتظامی عہدیداروں پر مشتمل ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، جو طلبہ و طالبات اور دیگر افراد کو منشیات کے مضر اثرات سے آگاہ کریں گی۔ اس کے علاوہ خفیہ ٹیمیں بھی تشکیل دی گئی ہیں، جن کی مدد سے تعلیمی اداروں میں منشیات کی سپلائی روکنے اور اس غیر قانونی کاروبار میں ملوث عناصر کا سراغ لگانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے ، تاکہ تعلیمی اداروں کو منشیات سے پاک کرنے کے ساتھ اس دھندے میں ملوث افراد کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جا سکے ۔اس حوالے سے آر پی او انعام الحق نے کہا کہ شہر کو منشیات سے پاک کرنے کے لیے ضلعی پولیس، سی آئی اے ، سی سی ڈی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی معاونت بھی حاصل کی جائے گی۔ سیف سٹی کیمروں کی مدد سے شہر کی نگرانی کا عمل مزید مؤثر بنایا جائے گا، تاکہ نوجوان نسل، بالخصوص طلبہ و طالبات کو منشیات سے محفوظ رکھا جا سکے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...