آذربائیجان کے ساتھ پاکستان کے تعلقات نئے نہیں ہیں مریم نواز کا دورئہ آذربائیجان
ورلڈ فورم پر حکومتِ پنجاب کی پذیرائی بلکہ ان کی مضبوطی کا آغاز میاں نواز شریف کے پہلے دورِ حکومت میں ہوا۔ اس وقت آذربائیجان کے صدر حیدر علیوف تھے جو موجودہ صدر الہام علیوف کے والد ہیں۔
اسی تسلسل کو اب میاں نواز شریف کی بیٹی مریم نواز اور حیدر علیوف کے بیٹے الہام علیوف آگے بڑھا رہے ہیں۔ میں یہاں آذربائیجان کے قومی رہنما اور بانی حیدر علیوف کے بارے میں کچھ اہم باتیں بتانا چاہتی ہوں۔ پاکستان کے زیادہ تر عوام ملک کے وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تعلقات سے لاعلم ہیں۔ پاکستان کے آذربائیجان کے ساتھ تعلقات 90ء کی دہائی میں قائم ہوئے جب نواز شریف پہلی مرتبہ پاکستان کے وزیراعظم منتخب ہوئے ۔ آذربائیجان کے قومی رہنما اور بانی حیدر علیوف ایک دور اندیش سیاستدان تھے ’ وہ تین دہائیوں تک ملک کی قیادت کرتے رہے ۔ ابتدائی طور پر انہوں نے سوویت یونین کے دور (1969ء تا 1982ء) میں سوویت آذربائیجان کی باگ ڈور سنبھالی اور بعد ازاں آزاد آذربائیجان کے صدر بنے ۔ سوویت یونین کے خاتمے کے وقت’ 1993ء میں آذربائیجان شدید سیاسی اور معاشی بحران کا شکار تھا۔ اس مشکل وقت میں آذربائیجان کی قوم نے حیدر علیوف کو اپنا رہنما چنا۔ حیدر علیوف 1993ء میں پارلیمنٹ کے سربراہ منتخب ہوئے اور پھر جولائی 1993ء میں آذربائیجان کے صدر بن گئے ۔ حیدر علیوف نے 1993ء سے 2003ء’ یعنی اپنی وفات تک اس عہدے پر خدمات انجام دیں۔ حیدر علیوف نے آذربائیجان میں امن قائم کیا اور ملکی معیشت کو مستحکم کیا۔ حیدر علیوف کی کامیاب خارجہ پالیسی کی بدولت آذربائیجان عالمی سطح پر ایک اہم ملک بن کر ابھرا۔
نواز شریف اور آذربائیجان کے بانی صدر حیدر علیوف کے درمیان دیرینہ’ ذاتی اور سفارتی دوستی تھی جس کی بنیاد 1990ء کی دہائی کے اوائل میں رکھی گئی۔ ان کے درمیان یہ قریبی تعلقات دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ اور سٹریٹجک تعلقات کا سنگِ میل ثابت ہوئے ۔ یہ تعلقات آج بھی دونوں ممالک کے درمیان ایک مضبوط سفارتی اور ثقافتی اثاثے کے طور پر دیکھے جاتے ہیں جس کی باقاعدہ توثیق آذربائیجان کی اعلیٰ قیادت بھی کرتی ہے ۔ نواز شریف جب پہلی بار پاکستان کے وزیراعظم بنے تب سے ہی ان کے اور حیدر علیوف کے درمیان گہرے روابط استوار ہوئے ۔ ان تعلقات نے پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان سیاسی’ معاشی اور دفاعی تعاون کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ دونوں رہنماؤں نے وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے درمیان رابطوں کو بڑھانے اور باہمی دلچسپی کے امور پر ایک دوسرے کے مؤقف کی کھل کر حمایت کی۔
حیدر علیوف کے صاحبزادے اور آذربائیجان کے موجودہ صدر الہام علیوف نے بھی اپنے والد اور نواز شریف کی اس دیرینہ دوستی کو آگے بڑھایا ہے ۔ باکو کے حالیہ دورے کے دوران وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی صدر الہام علیوف سے اہم ملاقات ہوئی جس میں دونوں رہنماؤں نے اس دیرینہ دوستی کا ذکر کرتے ہوئے دوطرفہ تعلقات کے تسلسل کو سراہا۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اپنی کابینہ کے ہمراہ باکو میں اقوامِ متحدہ کے ورلڈ اربن فورم میں شرکت کیلئے آذربائیجان پہنچیں جہاں ایئرپورٹ پر ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔ مریم نواز نے پہلے روز آذربائیجان کے بانی رہنما حیدر علیوف کے مقبرے پر حاضری دی’ پھولوں کا گلدستہ رکھا اور فاتحہ خوانی کی’ جبکہ کوچئہ شہدا کی یادگار پر بھی پھول رکھے ۔ اس کے بعد مریم نواز نے باکو کی تاریخی لائبریری کا بھی دورہ کیا جہاں انہیں میاں نواز شریف اور بیگم کلثوم نواز کے دورئہ آذربائیجان کی یادگار تصویریں بھی دکھائی گئیں۔ مریم نواز نے باکو کے قدیم اور تاریخی علاقے کا بھی دورہ کیا جہاں انہوں نے باکو کی روایتی روٹی بھی چکھی۔ ورلڈ اربن فورم میں تقریر سے قبل مریم نواز نے آذربائیجان کے صدر الہام علیوف سے بھی ملاقات کی۔ اس کے ساتھ مریم نواز نے بلغاریہ’ جارجیا’ کرغزستان’ ازبکستان اور دیگر ممالک کے حکمرانوں سے بھی سائیڈ لائن ملاقاتیں کیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز ورلڈ اربن فورم میں حکومتِ پنجاب کے تاریخی منصوبے ‘‘اپنی چھت اپنا گھر’’ سے متعلق دنیا کو آگاہ کرنے گئی تھیں۔ حکومتِ پنجاب نے مختصر عرصے میں صوبے کے لوگوں کو اپنی چھت فراہم کی ہے ۔ حکومتِ پنجاب اب تک ایک لاکھ لوگوں کو ان کی اپنی چھت فراہم کر چکی ہے جبکہ 65 ہزار گھروں کی تعمیر کا کام بھی تیزی سے جاری ہے ۔ یہ اپنی نوعیت کا دنیا کا تیز ترین اور سب سے بڑا رہائشی منصوبہ ہے ۔ مریم نواز نے اپنی تقریر کے آغاز میں ہی ورلڈ اربن فورم کے شرکا کو میاں نواز شریف’ وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستانی قوم کی جانب سے سلام پیش کیا۔ مریم نواز آذربائیجان کے صدر الہام علیوف کی کارکردگی سے بے حد متاثر ہوئیں اور انہوں نے الہام علیوف کے ویژن کو انتہائی متاثر کن قرار دیا۔ باکو سے میاں نواز شریف کی وابستگی اور قریبی دوستی کی وجہ سے مریم نواز نے واضح کہا کہ ایسے لگ رہا ہے جیسے میں باکو میں نہیں بلکہ اپنے گھر آئی میں ہوں۔ یہاں لوگوں کی جانب سے جو عزت ملی ہے وہ ناقابلِ بیان ہے ۔ مریم نواز نے ورلڈ اربن فورم کے شرکا کو حکومتِ پنجاب کے اپنی چھت اپنا گھر’ ستھرا پنجاب’ پنجاب سوشل اکنامک رجسٹری’ الیکٹرک بسیں’ ماڈل ویلیج اور دیہی علاقوں میں صاف پانی کی فراہمی جیسے تاریخی منصوبوں سے آگاہ کیا۔ فورم کے شرکا نے مختصر ترین عرصے میں اتنے بڑے اور تاریخی اقدامات کرنے پر مریم نواز کے لیے تالیاں بجائیں اور انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔ مریم نواز کو بطور وزیراعلیٰ تیسری مرتبہ کسی عالمی فورم پر تقریر کرنے کا موقع ملا۔ اس سے پہلے مریم نواز ترکیہ اور برازیل میں اپنی صلاحیتوں کا کھل کر اظہار کر چکی ہیں۔ ان کا کسی عالمی فورم پر تقریر کرنے اور حاضرین کو مخاطب کرنے کا اندازِ بیان ثابت کرتا ہے کہ وہ واقعی میاں نواز شریف کی بیٹی ہیں۔ ان کے سامنے کسی بھی عہدے یا منصب پر فائز شخصیات بیٹھی ہوں یا عام عوام’ ان کی زبان بالکل نہیں لڑکھڑاتی بلکہ وہ پُراعتماد لہجے میں سامعین سے مخاطب ہوتی ہیں۔ اسی لیے ان کی تقریریں بہت مؤثر اور قابلِ غور ہوتی ہیں۔
مریم نواز نے کامیاب سیاستدان ہونے کے ساتھ ایک کامیاب وزیراعلیٰ کے طور پر بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے ۔ انہیں وزیراعلیٰ منتخب ہوئے ابھی صرف دو سال کا عرصہ گزرا ہے لیکن وہ اپنے طرزِ حکومت سے ثابت کر رہی ہیں کہ وہ ایک تجربہ کار سیاستدان اور دور اندیش حکمران ہیں جو عوام کو وقتی ریلیف کے بجائے مستقل بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے پر اپنی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ پنجاب میں مریم نواز نے جتنے بھی منصوبے شروع کیے ہیں’ یہ سب آنے والے وقت کو مدنظر رکھ کر متعارف کروائے گئے ہیں اسی لیے آج عالمی سطح پر ان کے منصوبوں کی پذیرائی ہو رہی ہے ۔