گاجر گولہ ریلوے سٹیشن ویران،جرائم پیشہ عناصر کی پناہ گاہ

گاجر گولہ ریلوے سٹیشن ویران،جرائم پیشہ عناصر کی پناہ گاہ

چورقیمتی لوہا، دروازے ، کھڑکیاں، چھتوں کا سامان اور دیگر قابل استعمال اشیا لے گئے

علی پورچٹھہ(تحصیل رپورٹر ) گاجر گولہ ریلوے سٹیشن ویرانی کی تصویر بن گیا۔ دو دہائیوں سے ٹرینوں کی بندش کے باعث قومی اثاثہ تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا۔علی پورچٹھہ اور حافظ آباد کے درمیان واقع تاریخی ریلوے سٹیشن حکومتی عدم توجہی اور ریلوے حکام کی غفلت کے باعث ویران ، جرائم پیشہ عناصر اور نشئی افراد کی پناہ گاہ بن گیا ۔تفصیلات کے مطابق گاجر گولہ ریلوے سٹیشن ماضی میں علاقے کی اہم سفری اور تجارتی ضرورت کو پورا کرنے والے مراکز میں شمار ہوتا تھا۔ مقامی افراد کے مطابق جب لوکل ٹرینیں چلتی تھیں تو روزانہ درجنوں مسافر سٹیشن سے سفر کرتے تھے جبکہ گردونواح کے دیہات سے چاول، گندم اور دیگر زرعی اجناس ریلوے کے ذریعے ملک کے مختلف شہروں تک پہنچائی جاتی تھیں۔

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ سٹیشن کے ساتھ سرکاری گودام بھی موجود تھے جہاں سامان ذخیرہ کیا جاتا اور بعد ازاں ٹرینوں کے ذریعے مختلف منڈیوں تک منتقل کیا جاتا ۔ گزشتہ برسوں کے دوران نامعلوم افراد سٹیشن کی عمارت سے قیمتی لوہا، دروازے ، کھڑکیاں، چھتوں کا سامان اور دیگر قابل استعمال اشیا چوری کر کے لے گئے ۔ شہریوں نے وزیر ریلوے سے مطالبہ کیا ہے کہ گاجر گولہ ریلوے سٹیشن کی بحالی کیلئے فوری اقدامات کیے جائیں، مسافر ٹرینوں کا سٹاپ بحال کیا جائے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں