سرکاری قیمت پر فروخت ممکن نہیں: گوالوں کا دودھ کی فراہمی بند کرنے کا اعلان
ونڈ ا اور چارا مہنگا ،مویشیوں کی دیکھ بھال کے اخراجات کئی گنا بڑھ چکے ،سرکاری قیمت 300روپے کلو مقرر ،کیمیکل کے تیار محلول کی تر سیل روکی جائے :ڈیری فارمرز، گوالے
لدھیوالہ وڑائچ ، عالم چوک (نامہ نگار ،نمائندہ خصوصی )گوجرانوالہ اور گردونواح کے ڈیری فارمرز اور گوالوں نے آج پیر اور منگل کے روز شہر بھر میں دودھ کی سپلائی مکمل طور پر بند رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ سرکاری نرخوں پر دودھ فروخت کرنا ممکن نہیں رہا، دودھ کی سرکاری قیمت فوری طور پر 300 روپے فی کلو مقرر کی جائے بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جا سکتا ہے ۔ ڈیری فارمرز فیضان وڑائچ،قمر وڑائچ، عاصم چہل، عمر باجوہ کا کہنا ہے کہ کھاد بجلی بیج جانوروں کی خوراک زرعی ادویات ویٹرنری اخراجات اور ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں مسلسل اضافے نے ڈیری فارمنگ کو شدید خسارے کا کاروبار بنا دیا ہے ، اسکے علاوہ شہر بھر میں روزانہ لاکھوں لٹرکیمیکل سے تیار مضر صحت دودھ جو 40سے 50روپے لٹر میں تیار ہوتا ہے کی ترسیل نے کاروبار شدید متاثر کیا ہے ان کا کہنا تھا کہ مویشیوں کی دیکھ بھال اور چارے کے اخراجات بھی کئی گنا بڑھ چکے ہیں ایسے حالات میں موجودہ نرخوں پر دودھ فروخت کرنا ممکن نہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے دودھ کے نرخ ازسرنو مقرر کرے تاکہ فارمرز کو معاشی نقصان سے بچایا جا سکے گوالوں کے مطابق وہ مسلسل مالی خسارہ برداشت کر رہے ہیں اور اگر مناسب نرخ مقرر نہ کئے گئے تو ڈیری سیکٹر کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے ۔دوسری جانب دو روزہ سپلائی بند ہونے کے اعلان کے بعد شہریوں کا کہنا ہے کہ دودھ کی قلت سے بچوں مریضوں ہوٹلوں بیکریوں اور چائے فروشوں سمیت ہزاروں صارفین مشکلات سے دوچار ہوں گے ۔