ماؤں کیلئے بچوں کو دودھ پلانا اولین ترجیح ہونی چاہئے، ڈاکٹر برتھ
ماں کا دودھ نہ صرف صحت بلکہ معاشی و انسانی سرمایہ کی ضمانت، خطاب
اسلام آباد (اے پی پی) وزیر مملکت برائے صحت ڈاکٹر مختار برتھ نے کہا ہے کہ ماؤں کیلئے بچوں کو دودھ پلانا اولین ترجیح ہونی چاہئے۔ بچوں کو ماں کا دودھ پلانا صرف صحت کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ پاکستان کے روشن مستقبل، مضبوط معیشت اور نسل نو کو بچانے کیلئے ایک بہترین سرمایہ کاری ہے، تندرست معاشرے کی بنیاد رکھنے کیلئے یہ سب سے موثر راستہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز پاکستان انسٹیٹیوٹ فار پارلیمنٹری سروسز میں ہیلتھ سروسز اکیڈمی اور یونیسیف کے اشتراک سے غذائیت اور بچپن کی نشوونما کی قانون سازی کے ڈھانچے کو مضبوط بنانے کیلئے ایک اعلیٰ سطح مذاکرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اراکین، ماہرینِ غذائیت، ماہرینِ اطفال اور وزارت صحت کے حکام شریک تھے۔
مذاکرے کا مقصد بچوں کو ماں کا دودھ پلانے کے تحفظ اور مارکیٹ میں دستیاب متبادل دودھ کی روک تھام کیلئے قانون سازی کرنا تھا۔ شرکا کو بتایا گیا کہ پاکستان میں ماں کا دودھ پلانے سے متعلق قوانین پر عملدرآمد میں سنگین خلا موجود ہے۔ صرف 20فیصد نومولود بچوں کو پیدائش کے پہلے گھنٹے میں ماں کا دودھ میسر آتا ہے، پاکستان سالانہ 110ارب روپے فارمولا دودھ پر خرچ کر رہا ہے۔ یونیسف کی ڈپٹی کنٹری نمائندہ شرمیلا رسول نے کہا کہ کام کی جگہوں پر مائوں کو سہولیات فراہم کرنا اور غلط معلومات کا مقابلہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔