بین المسالک ہم آہنگی اور انتہا پسندی کے تدارک پر گول میز کانفرنس

  بین المسالک ہم آہنگی اور انتہا پسندی کے تدارک پر گول میز کانفرنس

معاشرے میں امن، رواداری اور بقائے باہمی کے فروغ کیلئے عملی اقدامات تجویز کرنا تھا پاکستان کی بقا اور استحکام کیلئے لازم ہے کہ فرقوں اور گروہوں میں بٹنے سے بچیں،مقررین

 اسلام آباد (دنیا رپورٹ)نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک پالیسی (NIPP) کے زیر اہتمام \\\"بین المسالک ہم آہنگی اور انتہا پسندی کا تدارک\\\" کے عنوان پر ایک گول میز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔جس کا بنیادی مقصد معاشرے میں امن، رواداری اور بقائے باہمی کے فروغ کے لیے عملی اقدامات تجویز کرنا تھا۔ این آئی پی پی کے ڈین ڈاکٹر نوید الٰہی کا کہنا تھا کہ \\\"موجودہ ملکی اور بین الاقوامی حالات میں بین المسالک ہم آہنگی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔پاکستان کی بقا اور استحکام کے لئے لازم ہے کہ فرقوں اور گروہوں میں بٹنے سے بچیں۔ تعلیمی اور تحقیقی اداروں کا یہ فرض ہے کہ وہ ایسے پلیٹ فارم مہیا کریں جہاں مکالمے کے ذریعے انتہا پسندانہ سوچ کا راستہ روکا جا سکے اور معاشرے میں امن و استحکام کی بنیاد رکھی جائے ۔ بادشاہی مسجد کے خطیب مولانا عبدالخبیر آزاد کا کہنا تھا\\\"پیغامِ پاکستان\\\" ایک تاریخی اور متفقہ دستاویز ہے ، جو ملک میں امن و امان کی ضامن ہے ۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اس قومی بیانیے کو عام کرنے کے لیے اسے باقاعدہ تعلیمی نصاب کا حصہ بنایا جائے تاکہ ہماری آنے والی نسلیں فکری انتشار سے محفوظ رہ سکیں۔ سابق رکن اسلامی نظریاتی کونسل مولانا زبیر احمد ظہیر کا کہنا تھا کہ فرقہ واریت کے خاتمے کے بغیر کوئی بھی معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔ تمام مکاتبِ فکر کو ایک دوسرے کے وجود اور نظریات کا احترام کرنا ہوگا اور منبر و محراب سے صرف محبت اور اتحاد کا پیغام نشر ہونا چاہیے ،تقریب کے آخر میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک پالیسی کے ڈین ڈاکٹر نوید الٰہی نے معزز مہمانوں کو یادگاری شیلڈز بھی پیش کی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں