پاکستان میں خواتین کی معاشی اور سماجی شمولیت میں نمایاں تضاد
گلوبل جینڈر گیپ انڈیکس 2025میں 148ممالک میں آخری نمبر ہے ،ڈاکٹر فریحہ
اسلام آباد (نامہ نگار ) پاکستان میں خواتین کی معاشی اور سماجی شمولیت کے حوالے سے ایک نمایاں تضاد سامنے آیا ہے ۔ ایک طرف پاکستان صنفی بنیادوں پر بجٹ سازی کے میدان میں کئی ممالک سے آگے ہے جبکہ دوسری طرف گلوبل جینڈر گیپ انڈیکس 2025 میں 148 ممالک میں آخری نمبر پر ہے ۔ ماہرین نے اس صورتحال کو پالیسی اور عمل درآمد کے درمیان موجود بڑے خلا کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بجٹ میں خواتین کی ضروریات کو شامل کرنے کے ساتھ ساتھ ان پالیسیوں کے عملی اثرات کو یقینی بنانا ضروری ہے ۔یہ بات پالیسی ادارہ برائے پائیدارترقی میں جینڈر ورکنگ گروپ کے زیر اہتمام منعقدہ خصوصی نشست میں کہی گئی جس میں پاکستان میں صنفی مالیاتی فرق، بجٹ سازی کے نظام، پالیسی فریم ورک اور عمل درآمد کی رکاوٹوں کا جائزہ لیا گیا۔
جینڈر ورکنگ گروپ کی شریک سربراہ اور ایس ڈی پی آئی کے سینٹر فار ایویڈنس ایکشن ریسرچ کی سربراہ ڈاکٹر فریحہ نے کہا کہ پاکستان صنفی بنیادوں پر بجٹ سازی کے حوالے سے اپنے وقت سے آگے ہے اور اس شعبے میں کئی مغربی ممالک سے بہتر کارکردگی دکھا رہا ہے ۔ تاہم انہوں نے پاکستان کی صورتحال میں موجود تضاد کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ خواتین ملک کی آبادی کا 49.3 فیصد ہیں لیکن عالمی صنفی فرق کے اشاریے میں پاکستان 148ویں نمبر پر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ معاشی، تعلیمی، صحت اور سیاسی اشاریوں میں پاکستان نے مجموعی طور پر صرف 56.7 فیصد صنفی برابری حاصل کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ خواتین کے پاس زرعی زمین کی ملکیت صرف 1.5 سے 2 فیصد ہے جبکہ خواتین کی لیبر فورس میں شرکت تقریباً 22.7 سے 25 فیصد ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments