انسداد پولیو مہم کا افتتاح ، غفلت کی کوئی گنجائش نہیں ، وزیر اعلیٰ

 انسداد پولیو مہم کا افتتاح ، غفلت کی کوئی گنجائش نہیں ، وزیر اعلیٰ

اس سال پاکستان میں 3کیسز رپورٹ ہوئے ، خطرہ ٹلا نہیں، والدین، علمائے کرام، سول سوسائٹی فعال کرداراد کریں مراد علی شاہ کا روٹری کلب کمیونٹی سینٹر کا دورہ،بچوں کو حفاظتی قطرے پلائے ،فزیوتھراپی کی سہولیات کا بھی جائزہ

کراچی (این این آئی)وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے پیر کو سندھ میں سات روزہ قومی انسداد پولیو مہم کا افتتاح کرتے ہوئے موذی مرض کے خاتمے کے لیے صوبائی حکومت کے عزم کا اعادہ کیا اور والدین، برادری کے رہنماؤں، علمائے کرام، سول سوسائٹی اور میڈیا پر زور دیا کہ وہ ہر بچے کو زندگی بچانے والی ویکسین کی فراہمی یقینی بنانے میں فعال کردار ادا کریں۔وزیراعلیٰ نے گلستانِ جوہر میں روٹری کلب کمیونٹی سینٹر کے دورے کے دوران مہم کا افتتاح کیا، جہاں انہوں نے بچوں کو پولیو کے قطرے بھی پلائے ۔ تقریب میں سیکریٹری اسکول ایجوکیشن زاہد عباسی، سیکریٹری صحت طاہر سانگی، پولیو پروگرام کے انچارج شہریار گل، شراکت دار اداروں کے نمائندے ، روٹری انٹرنیشنل کے عزیز میمن اور دیگر نے شرکت کی۔افتتاح سے قبل وزیراعلیٰ نے روٹری کلب کمیونٹی سینٹر میں مختلف سہولیات کا جائزہ لیا اور پولیو سے متاثرہ بچوں کی معاونت کے لیے جاری اقدامات پر بریفنگ لی۔ انہوں نے مصنوعی اعضا یونٹ کا دورہ کیا، جہاں پولیو کے باعث معذور ہونے والے بچوں کو مصنوعی اعضا اور کیلیپرز فراہم کیے جا رہے ہیں، جبکہ ان کی بحالی کے لیے فراہم کی جانے والی فزیوتھراپی کی سہولیات کا بھی جائزہ لیا۔

وزیراعلیٰ نے پولیو سے متاثرہ بچوں سے بھی ملاقات کی اور انہیں فراہم کی جانے والی معاونت اور بحالی کی خدمات کا جائزہ لیا۔افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ 2026 میں اب تک پاکستان میں پولیو کے چار کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں سندھ کے ضلع سجاول کا ایک اور خیبرپختونخوا کے تین کیسز شامل ہیں، جبکہ افغانستان میں 29 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پولیو کے خاتمے کی جانب نمایاں پیش رفت ہوئی ہے ، لیکن ہمارا کام ابھی مکمل نہیں ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ دنیا میں کہیں بھی وائرس کی موجودگی ہر جگہ بچوں کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہے ۔وزیراعلیٰ نے سندھ میں ہونے والی پیش رفت کو صوبائی حکومت، فرنٹ لائن ورکرز، والدین، برادری کے رہنماؤں، ترقیاتی شراکت داروں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کی اجتماعی کوششوں کا نتیجہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں ماحولیاتی نگرانی کے اشاریوں میں حوصلہ افزا بہتری سامنے آئی ہے ۔مثبت نمونوں کی شرح اگست میں 62 فیصد سے کم ہو کر 20 فیصد رہ گئی۔ پولیو کے خلاف جنگ میں غفلت کی کوئی گنجائش نہیں، اور خبردار کیا کہ ہر غیر ویکسین شدہ بچہ وائرس کے پھیلاؤ کا ایک موقع پیدا کرتا ہے ۔انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ اگر اعلیٰ معیار کی ویکسی نیشن مہمات اور مسلسل عزم جاری رہا تو 2027 کے اختتام تک وائرس کی منتقلی روکنے کا ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...