زبانوں کے تحفظ کیلئے معیاری لسانی ڈیٹا کی تیاری ناگزیر ،ماہرین

 زبانوں کے تحفظ کیلئے معیاری لسانی ڈیٹا کی تیاری ناگزیر ،ماہرین

پاکستان میں بولی جا نیوالی80زبانوں میں سے بیشتر کو بقا کے چیلنجز درپیش اوپن یونیورسٹی میں پاکستانی زبانوں کے ڈیٹا سیٹ پر بین الاقوامی ورکشاپ سے خطاب

 اسلام آباد (اے پی پی) اوپن یونیورسٹی میں پاکستانی زبانوں کیلئے ملٹی موڈل ڈیٹا سیٹ کی تیاری کے موضوع پر ایک روزہ بین الاقوامی ورکشاپ منعقد ہوئی۔ ماہرین نے کہا مصنوعی ذہانت کے موجودہ دور میں پاکستانی زبانوں کے تحفظ کیلئے معیاری لسانی ڈیٹا کی تیاری ناگزیر ہے ، افتتاحی سیشن کی صدارت پروفیسر ڈاکٹر سید عامر شاہ نے کی۔ انہوں نے کہا معیاری ملٹی موڈل ڈیٹا سیٹ کی تیاری زبانوں کی ڈیجیٹل دنیا میں موثر نمائندگی یقینی بنانے میں معاون ثابت ہوگی ۔ فخرالدین اخونزادہ نے کہا کہ پاکستان میں تقریبا 80ً زبانیں بولی جاتی ہیں جن میں سے متعدد کو بقا کے چیلنجز درپیش ہیں۔

ڈاکٹر محمد کمال خان نے بتایا کہ منصوبے کے تحت پشتو، پنجابی، ہزارگی، سرائیکی اور دیگر پاکستانی زبانوں کا ملٹی موڈل ڈیٹا اکٹھا کیا گیا ہے جو لسانی تحقیق اور مصنوعی ذہانت کی مختلف ایپلی کیشنز میں استعمال ہوگا۔ پراجیکٹ کے پرنسپل انویسٹی گیٹر اور انڈیانا یونیورسٹی، امر یکا کے ڈاکٹر میثم علی نے کہا مختصر مدت میں جامع لسانی ڈیٹا اکٹھا کیا گیا ہے جو مقامی زبانوں کے تحفظ و فروغ اور انہیں مستقبل کے اے آئی نظاموں کا حصہ بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...