چیئرمین سی ڈی اے کا اسلام آباد ایکسپریس وے سروس روڈ کا دورہ کام تیز کرنیکی ہدایت
پیشرفت، جاری کام اور آئندہ کے مراحل کے حوالے سے بریفنگ ،فیلڈ مانیٹرنگ، کوالٹی کنٹرول پر نظر رکھی جائے ،سہیل اشرفتجاوزات پر 377عمارتوں کی نشاندہی، 58عمارتیں سیل،جرمانوں کی مد میں 234.685ملین روپے وصول ،حکام کی بریفنگ
اسلام آباد (خصوصی رپورٹر)چیئرمین سی ڈی اے سہیل اشرف نے اسلام آباد ایکسپریس وے سروس روڈ ایسٹ پروجیکٹ کا دورہ کرکے جاری ترقیاتی کاموں کی رفتار اور معیار کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہیں منصوبے پر اب تک ہونے والی پیش رفت، جاری کام اور آئندہ کے مراحل کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔چیئرمین نے پروجیکٹ ڈائریکٹر اور متعلقہ شعبوں کو ہدایت کی کہ منصوبے پر کام کی رفتار مزید تیز کی جائے اور تعمیراتی معیار کے اعلی اصولوں کو برقرار رکھتے ہوئے اسے مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ایکسپریس وے ایسٹ پروجیکٹ سی ڈی اے کا اہم انفراسٹرکچر منصوبہ ہے جو دارالحکومت میں ٹریفک کی روانی، رابطوں اور سڑکوں کی گنجائش کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔انہوں نے منظور شدہ ڈیزائن اور تعمیراتی معیار پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت کرتے ہوئے متعلقہ افسران کو تعمیراتی کام کے دوران مسلسل فیلڈ مانیٹرنگ، کوالٹی کنٹرول اور موثر ٹریفک مینجمنٹ یقینی بنانے کا حکم دیا تاکہ مسافروں کو کم سے کم مشکلات کا سامنا کرنا پڑے ۔
معائنے کے دوران چیئرمین کو اسلام آباد ایکسپریس وے کے ساتھ غیر قانونی، غیر مجاز اور غیر منظور شدہ تعمیرات کے خلاف جاری آپریشن کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔ بتایا گیا کہ بلڈنگ کنٹرول سیکشن اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے ضلعی انتظامیہ اور اسلام آباد پولیس کے تعاون سے کارروائیاں جاری ہیں۔بریفنگ کے مطابق جاری آپریشن کے تحت کارروائی کے لیے مجموعی طور پر 377 عمارتوں کی نشاندہی کی گئی ہے ، جن میں 281 کمرشل عمارتیں شامل ہیں۔ اب تک 58 عمارتیں سیل کی جا چکی ہیں، جن میں 34 سوہان ، اقبال ٹائون جبکہ 24 کورنگ برج، کورنگ پولیس سٹیشن اور گلبرگ گرینز کے علاقوں میں واقع ہیں۔مزید بتایا گیا کہ سوہن اور کھنہ پل کے درمیان 124 عمارتوں کو مسمار کرنے کے لیے نشان زد کیا گیا ہے اور ان کی مسماری کا کام جاری ہے ۔ خلاف ورزیوں میں غیر مجاز تعمیرات، زمین کے غلط استعمال، منظوری کے بغیر تعمیرات اور فائر سیفٹی کی لازمی ضروریات پوری نہ کرنا شامل ہیں۔متعلقہ مالکان اور قابضین کو خلاف ورزیوں سے متعلق نوٹسز جاری کیے گئے جبکہ مقررہ مدت میں خلاف ورزیاں دور نہ کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی گئی۔سی ڈی اے کے مطابق انفورسمنٹ آپریشن کے نتیجے میں اب تک زمین کے استعمال میں تبدیلی، منظوری کے بغیر تعمیرات اور ڈی سیلنگ چارجز کی مد میں 234.685 ملین روپے وصول کیے جا چکے ہیں، جبکہ زمین کے استعمال میں تبدیلی، غیر مجاز تعمیرات، سیٹ بیک، فلور ایریا ریشو (FAR) اور احاطہ شدہ رقبے سے متعلق خلاف ورزیوں کی مد میں تقریبا 3 ارب روپے کی مزید وصولی باقی ہے ۔چیئرمین سی ڈی اے نے متعلقہ شعبوں کو بلڈنگ کنٹرول اور زمین کے استعمال سے متعلق ضوابط، بالخصوص فائر سیفٹی کی لازمی شرائط پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments