نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز،580واں یومِ ہنگول منایا گیا

 نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز،580واں یومِ ہنگول منایا گیا

کوریا کے سفیر ہان سونگ ہو کا زبان کو تہذیبوں کے درمیان پل قرار دینے پر زور

اسلام آباد(خصوصی رپورٹر)نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز کے شعبہ کوریائی زبان کے زیر اہتمام 580واں یوم ہنگول (Hangeul Day) بھرپور جوش و جذبے سے منایا گیا۔ اس موقع پر کوریائی زبان کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا اور پاکستان اور جمہوریہ کوریا کے درمیان ثقافتی ہم آہنگی اور عوامی سطح پر روابط کے فروغ میں زبان کے کردار پر روشنی ڈالی گئی۔تقریب کے مہمان خصوصی پاکستان میں جمہوریہ کوریا کے سفیر ہان سونگ ہو تھے ۔ ریکٹر نمل میجر جنرل شاہد محمود کیانی، ہلال امتیاز (ملٹری) (ریٹائرڈ)، ڈائریکٹر جنرل نمل بریگیڈیئر محمد رفیق خان، ڈینز، ڈائریکٹرز، اساتذہ اور طلبہ نے بھی تقریب میں شرکت کی۔تقریب میں مضمون نویسی اور خطاطی کے مقابلوں کے علاوہ رنگا رنگ ثقافتی پرفارمنسز پیش کی گئیں، جن کے ذریعے کوریائی زبان اور ثقافت کی خوبصورتی کو اجاگر کیا گیا۔اپنے استقبالیہ کلمات میں ریکٹر نمل میجر جنرل شاہد محمود کیانی، ہلال امتیاز (ملٹری) (ریٹائرڈ)، نے کوریائی عوام کی اپنی زبان سے گہری محبت اور یومِ ہنگول کو بھرپور انداز میں منانے کے جذبے کو سراہا۔ انہوں نے باہمی افہام و تفہیم کے فروغ اور دوست ممالک کے ساتھ عوامی روابط کو مضبوط بنانے کے لیے زبانوں کے فروغ کے حوالے سے نمل کے عزم کا اعادہ کیا۔ریکٹر نمل نے کہا کہ کسی غیر ملکی زبان کا سیکھنا تعلیم، پیشہ ورانہ ترقی اور ثقافتی تبادلے کے متنوع مواقع کے دروازے کھولتا ہے ۔ انہوں نے مضمون نویسی اور خطاطی کے مقابلوں کے کامیاب طلبہ کو مبارک باد دی۔

انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ زبان اور ثقافت کے ذریعے مسلسل روابط اور تبادلے پاکستان اور جمہوریہ کوریا کے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی سطح پر رابطے دونوں ممالک کو قریب لانے کے مؤثر ترین ذرائع میں سے ایک ہیں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جمہوریہ کوریا کے سفیر ہان سونگ ہو نے کوریائی زبان کے فروغ اور اس تقریب کے انعقاد کے لیے ریکٹر نمل کے جوش و جذبے اور عزم پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے مختلف مقابلوں کے کامیاب شرکاء کو مبارک باد دی اور پاکستانی طلبہ میں کوریائی زبان و ثقافت کے فروغ کے لیے نمل کی کوششوں کو سراہا۔سفیر نے اس بات پر زور دیا کہ زبان محض ابلاغ کا ذریعہ نہیں بلکہ لوگوں، ثقافتوں اور قوموں کو آپس میں جوڑنے والا ایک پل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کوریائی زبان سیکھنے والے افراد ایک دوسرے کی ثقافت، روایات اور اقدار کو بہتر طور پر سمجھ کر پاکستان اور جمہوریہ کوریا کو مزید قریب لانے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔تقریب کے اختتام پر مقابلوں کے کامیاب شرکاء میں انعامات تقسیم کیے گئے اور ان کی صلاحیتوں اور محنت کو سراہا گیا۔ اس موقع پر کوریائی سفیر کو بھی احترام اور خیرسگالی کے اظہار کے طور پر یادگاری شیلڈ اور تحائف پیش کیے گئے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...