نسٹ اور ٹیکا کے درمیان نامیاتی کچرے سے کھاد بنانے کا معاہدہ
گرین سائیکل کمپوسٹنگ کا آزمائشی کارخانہ لگایا جائیگا،طلبہ کی عملی تربیت ممکن ہوگی
اسلام آباد (دنیا رپورٹ) نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) اور ترک ایجنسی برائے تعاون و روابط کے مابین ایک معاہدے پر دستخط ہوئے جس کے تحت نسٹ کیمپس میں پیدا ہونے والے نامیاتی کچرے کو کارآمد کھاد میں تبدیل کرنے کیلئے گرین سائیکل کمپوسٹنگ کا آزمائشی کارخانہ لگایا جائے گا۔ اس منصوبے کے تحت کچرے کو دوبارہ کارآمد بنانے کے ساتھ ماحول دوست طرزِ عمل اپنانے اور وسائل کے ذمہ دارانہ استعمال کو فروغ دیا جائے گا۔ معاہدے پر نسٹ کے پرو ریکٹر پلاننگ اینڈ ریسورسز محمد علی خان اور ٹیکا کی پاکستان کے لئے نمائندہ، سلیحہ تونا نے دستخط کیے۔ پاکستان میں ترکی کے سفیر ڈاکٹر عرفان نذیراوغلو، ریکٹر نسٹ ڈاکٹر زاہد لطیف اور دونوں اداروں کے سینئر نمائندے بھی تقریب میں موجود تھے۔ منصوبے کے تحت جامعہ کی کینٹینوں، ہاسٹلز، باغبانی اور دیگر سرگرمیوں سے پیدا ہونے والے نامیاتی کچرے کو الگ جمع کرکے اس سے کھاد تیار کی جائے گی۔ حاصل ہونے والی کھاد کیمپس کی شجرکاری و تزئین، زرعی تحقیق اور تعلیمی سرگرمیوں میں استعمال کی جا سکے گی۔یہ منصوبہ صرف کچرے کو ٹھکانے لگانے تک محدود نہیں ہوگا بلکہ تحقیق، طلبہ کے عملی منصوبوں اور تربیت کیلئے بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ اس موقع پر ریکٹر نسٹ ڈاکٹر زاہد لطیف نے کہا کہ یہ سہولت طلبہ کیلئے ایک عملی تجربہ گاہ کا کردار ادا کرے گی جہاں انہیں پائیدار کچرا مینجمنٹ کا براہِ راست تجربہ حاصل ہوگا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments