بھتہ خوری کے کیسز نہ ہونے کے برابر رہ گئے ، آئی جی سندھ
محکمہ میں افرادی قوت کی کمی بڑا چیلنج ،حل کرنے کی بھرپور کوشش کررہےٹیکنالوجی سے سیکیورٹی نظام مضبوط بنانے کا منصوبہ بھی زیر غور،غلام نبی میمن
کراچی (اسٹاف رپورٹر)آئی جی سندھ پولیس غلام نبی میمن نے دعویٰ کیا ہے کہ بھتہ خوری سے نمٹنے کیلئے بنائے گئے یونٹ سی آئی اے کی کارروائیوں سے کیسز نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں، تاہم بعض شکایات بدستور سامنے آتی ہیں جن پر پولیس فوری کارروائی کرتی ہے ، متعدد بھتہ خور مقابلوں میں مارے جاچکے یا گرفتار ہوچکے ۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے سندھ ہائیکورٹ میں جسٹس اقبال کلہوڑو کی سربراہی میں عدالتوں کی سیکیورٹی سے متعلق اہم میٹنگ میں شرکت کے بعد میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
آئی جی نے بتایا کہ محکمہ پولیس میں افرادی قوت کی کمی ایک بڑا چیلنج ہے جسے حل کرنے کی بھرپور کوشش کی جارہی جبکہ ٹیکنالوجی کی مدد سے سیکیورٹی نظام کو مزید مضبوط بنانے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے ۔ منشیات فروشوں کے حوالے سے آئی جی سندھ نے بتایا کہ ملزمان کی فہرستیں تیار کی جاچکی ہیں اور ان میں شامل 90 فیصد افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے جبکہ زیادہ تر ملزمان اس وقت جیلوں میں ہیں۔ اورنگی ٹاؤن میں مبینہ ڈاکو کو زندہ جلانے کے واقعے پر بات کرتے ہوئے آئی جی نے کہا کہ پولیس کو بروقت رسپانس دینا چاہیے تھا لیکن جب پولیس پہنچی تب تک نقصان ہوچکا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ واقعے کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے اور چار ملزمان کو گرفتار کیا جاچکا ہے جبکہ مزید ملزمان کی شناخت کا عمل جاری ہے ۔