رکشہ پابندی کیس، صوبائی حکومت و دیگر سے جواب طلب
روٹ پرمٹس موجود ، پابندی نہیں ایس او پیز بنا کر پابند کیا جائے ،درخواست گزار حکومت کا تحریری جواب آنے دیں، پھر معاملہ دیکھ لیں گے ،جسٹس یوسف علی
کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ میں سندھ حکومت کی جانب سے مختلف روٹس پر چھ سیٹوں والے رکشوں پر پابندی کے فیصلے کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ درخواست گزار رکشہ ایسوسی ایشن نے عدالت میں حکومت کے فیصلے کو چیلنج کیا ہے ۔ عدالت نے سندھ حکومت، ٹریفک پولیس اور دیگر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے فریقین سے 3 فروری کو جواب طلب کرلیا۔درخواست گزار کے وکیل قاضی عبدالحمید نے عدالت کو بتایا کہ سندھ حکومت کے فیصلے سے 60 ہزار چھ سیٹر رکشے متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے شہر کے 26 اہم روٹس پر چھ سیٹر رکشوں کے چلنے پر پابندی لگا دی ہے ، جبکہ چھ سیٹر رکشوں کے پاس تاحال قابل استعمال روٹ پرمٹس موجود ہیں اور پابندی روٹ پرمٹ کینسل کیے بغیر لگائی گئی ہے ۔ وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ حکومت کے اس اقدام سے چھ سیٹر رکشہ چلانے والوں پر روزانہ مقدمات درج کیے جا رہے ہیں اور رکشہ بنانے والی کمپنی میں کام کرنے والے ہزاروں افراد کا روزگار متاثر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کمپنی مضبوط باڈی کے ساتھ رکشے تیار کرتی ہے ۔ درخواست گزار نے استدعا کی کہ چھ سیٹر رکشہ چلانے والوں پر پابندی کے بجائے ایس او پیز بنا کر پابند کیا جائے اور حکومت کی جانب سے لگائی گئی پابندی کو ختم کرنے کا حکم دیا جائے ۔ جسٹس یوسف علی سعید نے ریمارکس دیے کہ حکومت کا تحریری جواب آنے دیں، پھر سارا معاملہ دیکھ لیا جائے گا۔