ٹینکر ز ،ہائیڈرنٹس سے پانی کی فراہمی ختم کرنے کا فیصلہ
شہریوں کو پانی انکی دہلیز پر لائنوں کے ذریعے فراہم کرنے کا بندوبست کیا جائے ،میئر کی واٹر کارپوریشن حکام کو متبادل نظام کی ہدایت مالی اصلاحات کیلئے ڈویلپمنٹ پیمنٹ سسٹم بھی سیپ سے منسلک کرنے کی تیاریاں،انتظامی معاملات میں مزید بہتری ترجیح،مرتضیٰ وہاب
کراچی(اسٹاف رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک) بلدیہ عظمیٰ نے کراچی میں ٹینکرز اور ہائیڈرنٹس کے ذریعے پانی کی فراہمی ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے واٹر کارپوریشن کے اعلیٰ حکام کو متبادل نظام کی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں موجود تمام ساتوں ہائیڈرنٹس کو بتدریج ختم کرکے لائنوں کے ذریعے پانی فراہم کریں اور شہریوں کو پانی انکی دہلیز پر لائنوں کے ذریعے فراہم کرنے کا بندوبست کیا جائے ۔میئر کراچی نے کہا کہ واٹر ہائیڈرنٹس سے ماہانہ تیس کروڑ روپے کا ریونیو حاصل ہوتا ہے ، واٹر ہائیڈرنٹس کا کنٹریکٹ گزشتہ سال ختم ہوچکا ہے ، نئے کنٹریکٹس جاری نہیں کریں گے بلکہ شہریوں کی ٹینکرز سے جان چھڑائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ شہر میں پانی کی کمی کو متبادل دنوں میں ہر علاقے کو پانی فراہم کرکے پورا کیا جائے گا۔ ٹینکرز کے ذریعے پانی فراہم کرنا مستقل حل نہیں، اس سے شہریوں کو مشکلات ہیں۔علاوہ ازیں بلدیہ عظمیٰ کراچی میں بڑے پیمانے پر مالی اصلاحات لانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے ، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب سے ایف اے بی ایس ڈائریکٹوریٹ، کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس کے وفد نے ملاقات کی جس میں مالی اور انتظامی امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اس موقع پر مشیر مالیات کے ایم سی گلزار ابڑو، میئر کراچی کے سینئر ڈائریکٹر کوآرڈینیشن اخلاق احمد یوسفزئی، ڈائریکٹر میڈیا دانیال سیال سمیت دیگر سینئر افسران موجود تھے ۔میئر کراچی نے پنشن سسٹم کو جلد از جلد ڈیجیٹل کرنے کی ہدایت کی جبکہ پنشن سسٹم کے ساتھ ساتھ ڈویلپمنٹ پیمنٹ سسٹم کو بھی سیپ سسٹم سے منسلک کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔میئر کراچی نے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کے مالی و انتظامی معاملات میں مزید بہتری لانا ترجیح ہے ، چالان، جرمانے اور کرایوں کی وصولی کو بھی ڈیجیٹل کیا جائے گا، وفد کی جانب سے ٹریٹمنٹ پلان اور دیگر انویسٹمنٹ منصوبوں پر بھی بریفنگ دی گئی جس پر میئر کراچی کی جانب سے جلد از جلد جامع پلان تیار کر کے کام شروع کرنے کی ہدایت کی گئی۔ مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی میں پنشن کی ادائیگیوں اور ترقیاتی ادائیگیوں سمیت تمام مالی معاملات کو مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام سے منسلک کردیا جائے گا، اس نظام کو نادرا سے منسلک کیا جائے گا تاکہ فوری تصدیق، مزید شفافیت اور بہتر سروس ڈلیوری ممکن ہو سکے ، تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے ایس اے پی سسٹم کی کامیاب عملداری کے بعد اب کے ایم سی تمام باقی مالی معاملات کی ڈیجیٹلائزیشن کے لیے تیار ہے ۔ فنانشل اکاؤنٹنگ اینڈ بجٹنگ سسٹم کے ارکان نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ شفافیت بڑھانے ، شخصی مداخلت کم کرنے اور مالی امور کی مجموعی کارکردگی بہتر بنانے کے اقدامات کئے جائیں گے۔