کراچی کی عمارت کی چھت پرتعمیرات روکنے کاحکم
معاملہ ایگزیکٹو کمیٹی سندھ بار کونسل کے روبرو پیش کرنے کی ہدایت مرکزی عمارت ایکٹ کے تحت محفوظ ورثہ قرار دی جا چکی ہے ، ممتازتنولی
کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ بار کونسل کے وائس چیئرمین اشتیاق احمد میمن نے کراچی بار ایسوسی ایشن کی عمارت کی چھت پر تعمیرات کے خلاف دائر درخواست پر تعمیراتی سرگرمیاں فوری طور پر روکنے کا حکم دے دیا۔ وائس چیئرمین سندھ بار کونسل کے روبرو ایڈووکیٹ ممتاز خان تنولی کی جانب سے دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ کراچی بار ایسوسی ایشن کی مرکزی عمارت شہدائے سندھ بلڈنگ سندھ کلچرل ہیریٹیج (پریزرویشن) ایکٹ 1994 کے تحت محفوظ ورثہ قرار دی جا چکی ہے ، عمارت کی چھت پر بغیر کسی منظور شدہ نقشے ، اجازت نامے یا متعلقہ اداروں کی منظوری کے تعمیرات کی جا رہی ہیں۔ درخواست گزار کے مطابق مذکورہ تعمیرات کراچی بلڈنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ریگولیشنز 2002 اور سندھ بلڈنگ کنٹرول آرڈیننس 1979 کی صریح خلاف ورزی ہیں، جبکہ چھت کی بوجھ برداشت کرنے کی صلاحیت کا کسی مستند اسٹرکچرل انجینئر سے جائزہ بھی نہیں لیا گیا۔
وائس چیئرمین سندھ بار کونسل کے حکم نامے کے مطابق ابتدائی معلومات اور مختلف سینئر وکلا سے حاصل شدہ تفصیلات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کراچی بار ایسوسی ایشن کی عمارت کی چھت پر تعمیراتی سرگرمیاں جاری ہیں، جبکہ ماضی میں اسی چھت کو خطرناک قرار دیا جا چکا ہے ۔ حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا کہ کراچی بار ایسوسی ایشن کے اراکین کو نہ تو تعمیرات کے حوالے سے کوئی نوٹس دیا گیا اور نہ ہی کوئی اطلاع نوٹس بورڈ پر آویزاں کی گئی۔ وائس چیئرمین سندھ بار کونسل نے کراچی بار ایسوسی ایشن کو ہدایت کی کہ وہ فوری طور پر تمام تعمیراتی سرگرمیاں بند کریں اور معاملہ آئندہ تاریخ پر ایگزیکٹو کمیٹی سندھ بار کونسل کے روبرو پیش کیا جائے ۔ اس کے ساتھ ہدایت کی گئی ہے کہ اگر کوئی تعمیراتی منظوری یا بلڈنگ پلان موجود ہے تو وہ پیش کیا جائے ۔