ریلوے سے زمین کی حیثیت سے متعلق رپورٹ طلب
تضاد یا گڑ بڑ سامنے آئی تو متعلقہ افسران کو جیل بھیج دیں گے ،جسٹس عدنان الکریم 14سو سے زائد الاٹیز رقم ادا کرنے کے باوجود زمین سے محروم ،درخواست گزار
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ نے پاکستان ریلوے ہاؤسنگ سوسائٹی کے نام پر لیز زمین پر ٹرمینل بنانے کے خلاف درخواست پر ریلوے حکام سے زمین کی حیثیت سے متعلق رپورٹ طلب کرلی ہے ۔ ہفتے کے روز سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ کے روبرو پاکستان ریلوے ہاؤسنگ سوسائٹی کے نام پر لیز زمین پر ٹرمینل بنانے کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی ۔ دوران سماعت جسٹس عدنان الکریم میمن نے ریمارکس میں کہاکہ حقیقت پر مبنی رپورٹ پیش کی جائے ، زمین کی حیثیت سے متعلق تضاد یا گڑ بڑ سامنے آئی تو متعلقہ افسران کو جیل بھیج دیں گے ،آرٹیکل 193 کے تحت عدالت کے سامنے جھوٹ بولنے کی سزا تین سے سات سال تک ہوسکتی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل کی جانب سے مؤقف اختیار کیاگیا تھاکہ پاکستان ریلوے ہاؤسنگ سوسائٹی کے لیے لانڈھی میں 1986 میں زمین دی گئی تھی ،14 سو سے زائد الاٹیز رقم ادا کرنے کے باوجود اپنی زمین سے محروم ہیں ۔ سرکاری وکیل کا کہنا تھاکہ جس زمین پر دعویٰ کیا جارہا ہے وہاں ٹرمینل بنایا جارہا ہے ۔ درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھاکہ 1986 میں ہاؤسنگ سوسائٹی کے لیے زمین الاٹ کی گئی 2006 میں ہاؤسنگ سوسائٹی کی لیز منسوخ کردی گئی ،2012 میں کہا کہ مذکورہ زمین پر ٹرمینل بنایا جارہا ہے ۔ عدالت نے ریلوے حکام سے زمین کی حیثیت سے متعلق رپورٹ طلب کرلی ہے ۔