اقلیتی تاجر پر تشدد کے واقعے کے ازخودنوٹس کامطالبہ
لالچند پر تشدد بااثر ملزمان کے خلاف بیان واپس لینے کیلئے کیاگیا،نندکمارگوکلانیسندھ حکومت مبینہ طور پر بااثر شخصیت کو تحفظ دے رہی ہے ،رہنما فنکشنل لیگ
کراچی (اسٹاف رپورٹر)پاکستان مسلم لیگ فنکشنل سندھ منارٹی ونگ کے صدر اور سابق ایم پی اے نند کمار گوکلانی نے اپنے جاری بیان میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو گھوٹکی میں اقلیتی تاجر وشال کمار پر مبینہ تشدد اور ان کے والد لالچند کو یرغمال بنانے کے واقعے پر از خود نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔نند کمار گوکلانی نے کہا کہ یہ واقعہ انتہائی تشویشناک، غیر انسانی اور ناقابل قبول ہے ۔ انہوں نے زور دیا کہ وشال کمار کے ساتھ مبینہ اغوا، برہنہ کر کے تشدد، مالی استحصال اور پھر ان کے والد لالچند کو یرغمال بنا کر دھمکیاں دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ اقلیتی برادری کو منظم طریقے سے خوفزدہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لالچند پر تشدد اور دباؤ اس لیے ڈالا جا رہا ہے تاکہ وہ بااثر ملزمان کے خلاف دیا گیا بیان واپس لے لیں۔ یہ واقعہ نہ صرف قانون بلکہ انسانیت کی کھلی توہین ہے ۔ کسی بھی ایم پی اے یا بااثر شخصیت کا طاقت کے زور پر شہری پر تشدد کرنا، ان کے کاروبار پر قبضہ کرنا اور انہیں خاموش کرانے کی کوشش ناقابلِ برداشت ہے ۔نند کمار گوکلانی نے الزام لگایا کہ سندھ حکومت اور پولیس اقلیتی تاجر اور ان کے اہلِ خانہ کو تحفظ فراہم کرنے کے بجائے مبینہ طور پر بااثر شخصیت اور ان کے ساتھیوں کو تحفظ دے رہی ہے ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ لالچند کو فوری طور پر بحفاظت آزاد کرایا جائے ۔