رہائشی پلاٹوں پر پورشن کی تعمیر نے شہر کا نقشہ بگاڑدیا
ایس بی سی اے میں مبینہ کرپشن نے شہر کو کنکریٹ کا بے ہنگم جنگل بنا دیاماسٹر پلان غائب، مسائل کے حل کیلئے مرکزی اتھارٹی کا قیام ناگزیر ،رپورٹ
کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)رہائشی پلاٹوں پر پورشن کی تعمیر نے شہر کی تعمیراتی منصوبہ بندی کا نقشہ بگاڑ دیا ۔رپورٹ کے مطابق میگا سٹی کراچی بیک وقت کئی اداروں کے درمیان تقسیم ہے ، درجنوں ادارے زمین کی ملکیت کے دعویدار ہیں، تعمیرات سے متعلق قوانین پر عمل درآمد کرانے والے اداروں میں بے انتہا کرپشن نے شہر کو کنکریٹ کا بے ہنگم جنگل بنا کر رکھ دیا ہے ۔شہر کا ماسٹر پلان کیا تھا کہاں گم ہوگیا اور نئے ماسٹر پلان کی کیا ترجیحات ہیں؟ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے )قانون کے مطابق کیا ذمہ داری انجام دے رہی ہے ؟۔رپورٹ کے مطابق ایس بی سی اے سمیت دیگر اداروں پر غیر قانونی تعمیرات کے معاملے میں رشوت کے عوض سہولت کاری کا الزام لگ رہا ہے ۔250 سے 2 ہزار گز تک کے کمرشل پلاٹ کی منظوری مبینہ طور پر 2 کروڑ سے 8 کروڑ کی رشوت کے عوض ہوتی ہے ، پلاٹ کی تعمیرات کے دوران بھی مبینہ طور پر بلڈر ڈھائی لاکھ سے ساڑھے 3 لاکھ روپے ادا کرتا ہے ۔رپورٹ کے مطابق شہر میں ایک سے ڈیڑھ برس میں رہائشی مکانوں کے کرایوں میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا ہے ، میئر سمیت 30 سے زائد اداروں میں بٹے ہوئے کراچی کو ترقی کیلئے مرکزی اتھارتی کے قیام کی ضرورت ہے ۔شہر کی مختلف اداروں میں تقسیم نے انفرااسٹرکچر، تعمیرات اور بنیادی سہولتوں کی عدم دستیابی جیسے کھڑے ہیں، سڑک کی تعمیر ایک تو نکاسی آب دوسرے ادارے کی ذمے داری ہے جبکہ تیسرے کا کام کچرا اٹھانا ہے ۔