آتشزدگی کے سانحات کی روک تھام کے لیے فوری اصلاحات کا مطالبہ

آتشزدگی  کے  سانحات  کی  روک  تھام  کے  لیے  فوری  اصلاحات  کا  مطالبہ

فائر سیفٹی کے ناقص انتظامات، کمزور بلڈنگ قوانین اور عوامی عمارتوں میں کارکنوں کے تحفظ کے موثر نظام نہ ہونے پرتشویش کیمیائی زہریلے اثرات، دم گھٹنے اور بوائلر دھماکوں کے باعث ایک ہزار سے زائد افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، مقررین

کراچی (این این آئی) شہری منصوبہ سازوں، فائر سیفٹی ماہرین، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور محنت کشوں کے حقوق کے کارکنوں نے شہر میں بار بار پیش آنے والے آتشزدگی کے سانحات کی روک تھام کے لیے فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے ۔مقررین نے فائر سیفٹی کے ناقص انتظامات، کمزور بلڈنگ قوانین اور عوامی عمارتوں میں کارکنوں کے تحفظ کے مؤثر نظام کی عدم موجودگی پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ان خیالات انہوں نے کراچی پریس کلب میں دی نالج فورم کے زیرِ اہتمام منعقدہ کثیر فریقی مکالمے بعنوان فائر سیفٹی: بلڈنگ ریگولیشنز اور ورکرز پروٹیکشن سے خطاب کرتے ہوئے ظاہر کیے ۔شہری- سِٹیزنز فار اے بیٹر انوائرنمنٹ کی امبر علی بھائی نے شہریوں اور سرکاری اداروں دونوں میں فائر سیفٹی سے متعلق آگاہی کے فقدان کو اجاگر کیا۔ انہوں نے صوبائی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوامی مقامات کو کمرشل استعمال میں لایا جا رہا ہے مگر بنیادی حفاظتی سہولیات کو نظرانداز کیا جا رہا ہے ۔ان کا کہنا تھا، بہت سی تجارتی عمارتوں میں آگ بجھانے کے آلات تک موجود نہیں۔ آگ لگنے کی صورت میں نہ ہنگامی راستے ہوتے ہیں اور نہ متبادل اخراج کے راستے ، جو روزانہ ہزاروں جانوں کو خطرے میں ڈال دیتا ہے ۔

صحت و سلامتی کے ماہر نعیم صادق نے عوامی مقامات میں صحت اور تحفظ کے انتظامات کی نگرانی کے لیے ایک سٹیزنز کمیشن کے قیام کی تجویز دی۔ ان کے مطابق یہ کمیشن بلڈنگ بائی لاز کے نفاذ کو یقینی بنا سکتا ہے ، آگاہی مہمات چلا سکتا ہے ، فائر اسٹیشنز اور عملے میں اضافے کی وکالت کر سکتا ہے اور سیکیورٹی کے بجائے سیفٹی کو ترجیح دے سکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ شہر کے وسائل اور ہنگامی ردِعمل کی صلاحیت تیز رفتار شہری پھیلاؤ کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہو سکی۔بلدیہ ٹاؤن فیکٹری آتشزدگی جیسے سانحات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بار بار کے واقعات کے باوجود کوئی سنجیدہ اور مستقل بحث سامنے نہیں آ سکی۔کیمیائی زہریلے اثرات، دم گھٹنے اور بوائلر دھماکوں کے باعث ایک ہزار سے زائد افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔انہوں نے پاکستان بھر میں مین ہول صاف کرتے ہوئے 300 سے زائد سینیٹری ورکرز کی اموات کو پیشہ ورانہ تحفظ کے نظام کی ناکامی قرار دیا۔ان کا کہنا تھا، گل پلازہ جیسے واقعات اسی لیے ہوتے رہیں گے کہ ہم انسانوں کو انسان نہیں سمجھتے ۔ مالکان اور سی ای اوز شاذ و نادر ہی جوابدہ ہوتے ہیں، ہم احتساب کے بجائے صرف معاوضے پر بات کرتے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں