گلی محلوں میں آوارہ کتوں کی بہتات ، بچوں، خواتین اور معمر افراد کی زندگیوں کو شدید خطرات

گلی محلوں میں آوارہ کتوں کی بہتات ، بچوں، خواتین اور معمر افراد کی زندگیوں کو شدید خطرات

نماز فجر کی ادائیگی کیلئے مساجد جانے والوں کو مشکلات کا سامنا،پولیو ڈیوٹی پر تعینات 21 سالہ پولیس اہلکاربھی سگ گزیدگی کا شکار،شہریوں کا حکام سے حکمت عملی بنانے کامطالبہ

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)کراچی کے گلی محلوں میں آوارہ کتوں کی بہتات نے شہریوں کی زندگیوں کو مشکل بنادیا ہے ۔کتے راہ چلتے افراد کے پیچھے لگ جاتے ہیں جس کی وجہ سے بچوں ، خواتین اور معمرافراد کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ۔شہریوں کا کہنا ہے کہ نماز فجر کی ادائیگی کے لیے مساجد جاتے ہوئے خود آتا ہے کہ کہیں کتے حملہ نہ کردیں۔ یاد رہے کہ قائد آباد میں پولیو ڈیوٹی پر تعینات ایک 21 سالہ پولیس اہلکار کو آوارہ کتے نے کاٹ لیا۔ واقعے کے بعد زخمی اہلکار کو فوری طور پر انڈس اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اسے طبی امداد فراہم کی گئی۔

انڈس اسپتال کے ڈاگ بائیٹ کلینک کے انچارج کے مطابق پولیس اہلکار کو دوسرے درجے کا زخم آیا ہے ، تاہم بروقت علاج کے باعث صورتحال قابو میں ہے اور اینٹی ریبیز ویکسین لگا دی گئی ہے ۔پولیو حکام کے مطابق یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ آفتاب گوہر کا کہنا ہے کہ اس سے قبل کورنگی میں ایک خاتون پولیو رضاکار کو بھی آوارہ کتے نے کاٹا تھا، جبکہ گزشتہ ماہ کے دوران دو سے تین پولیو رضاکار بھی سگ گزیدگی کا شکار ہو چکے ہیں۔پولیو حکام نے بتایا کہ جب بھی پولیو مہم کا آغاز ہوتا ہے ، فیلڈ میں کام کرنے والے پولیو رضاکار اور سیکیورٹی اہلکار آوارہ کتوں کے حملوں کا نشانہ بنتے ہیں۔ گزشتہ سال اکتوبر میں بھی ایک خاتون پولیو رضاکار کو کتے نے کاٹا تھا۔دوسری جانب اعداد و شمار کے مطابق صرف ایک ماہ کے دوران کراچی میں پانچ ہزار سے زائد سگ گزیدگی کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں