ڈیفیسمنٹ آف پراپرٹی ایکٹ پر حکومت سے جواب طلب
اب تک جواب کیوں جمع نہیں کرایا گیا،عدالت کا سرکاری وکیل سے استفسار ایکٹ کے تحت اب تک جرمانہ ہوا نہ کسی کے خلاف کارروائی ہوئی،درخواستگزار
کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ نے وال چاکنگ، پوسٹرز اور پولز پر بینرز لگانے کے خلاف سندھ ڈیفیسمنٹ آف پراپرٹی ایکٹ پر عملدرآمد نہ ہونے سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران سندھ حکومت سے جواب طلب کرلیا۔ سماعت کے دوران درخواست گزار طارق منصور ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ سندھ حکومت نے 2014 میں سندھ ڈیفیسمنٹ آف پراپرٹی ایکٹ منظور کیا تھا، جس کے تحت پبلک پراپرٹی، سڑکوں اور دیواروں پر وال چاکنگ، پوسٹرز اور بینرز لگانا قابلِ سزا جرم قرار دیا گیا۔ ایڈووکیٹ طارق منصور نے عدالت کو بتایا کہ ایکٹ کے تحت جرمانے اور سزائیں مقرر کی جانی تھیں، مگر آج تک نہ تو کوئی جرمانہ عائد کیا گیا اور نہ ہی کسی کے خلاف عملی کارروائی عمل میں لائی گئی۔ جسٹس عبدالمبین لاکھو نے ریمارکس دیے کہ کیا اب تک ڈیفیسمنٹ فورس تشکیل نہیں دی جا سکی؟ عدالت نے ریکارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ نوٹس پہلے ہی جاری ہو چکے ہیں۔ سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ نوٹس جاری ہو چکے ہیں اور جواب جمع کرایا جانا ہے ، عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کہ اب تک جواب کیوں جمع نہیں کرایا گیا۔ سرکاری وکیل نے جواب جمع کرانے کے لیے مہلت کی استدعا کی، عدالت نے چیف سیکریٹری، سیکریٹری بلدیات اور دیگر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 12 مارچ تک ملتوی کردی۔