اغوا برائے تاوان کیس منطقی انجام تک پہنچایا جائے ، سندھ ہائیکورٹ
عدالت اغوا برائے تاوان کا مقدمہ خارج نہیں کرے گی اور نہ ہی تحقیقات میں مداخلت کرے گی،دورکنی بینچطے شدہ اصول ہے کہ مفرور شخص کو ریلیف نہیں دیا جاتا،ریمارکس، دو درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا گیا
کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائی کورٹ نے کاروباری تنازع پر اغوا برائے تاوان کا مقدمہ درج کرنے اور مبینہ ہراسانی کے خلاف دائر دو درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔ جسٹس عدنان الکریم میمن اور جسٹس ذوالفقار علی سانگی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سماعت کے دوران قرار دیا کہ عدالت اغوا برائے تاوان کا مقدمہ خارج نہیں کرے گی اور نا ہی تحقیقات میں مداخلت کرے گی۔ عدالت نے تفتیشی افسر کو ہدایت کی کہ قانون کے مطابق کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے ۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ طے شدہ اصول ہے کہ مفرور شخص کو ریلیف نہیں دیا جاتا۔درخواست گزار کے وکیل بیرسٹر علی طاہر نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے موکل کے خلاف مسلسل مقدمات درج کیے جارہے ہیں اور انہیں ہراساں کیا جارہا ہے ۔
بیرسٹر علی طاہر نے عدالت کو بتایا کہ عدالتی احکامات کے باوجود گھر پر چھاپے مارے گئے اور پولیس نے تاحال درخواست گزار کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ سی بی سی نے بغیر کسی عدالتی حکم کے درخواست گزار کا دفتر اور شوروم سیل کردیا اور پولیس بھی سی بی سی کے ہمراہ تھی، دفتر تک رسائی دی جائے ۔سماعت کے دوران جسٹس ذوالفقار علی سانگی نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ چیک باؤنس کیس کی تحقیقات کہاں تک پہنچی ہیں؟ سرکاری وکیل نے موقف دیا کہ عدالت نے تحقیقات سے روکا ہوا ہے ، جس پر عدالت نے واضح کیا کہ عدالت نے چھاپوں سے روکا تھا تحقیقات سے نہیں روکا، آپ بینک سے ریکارڈ حاصل کرلیتے ۔
جسٹس عدنان الکریم میمن نے ریمارکس دیے کہ جب معلوم ہے کہ ملزم بیرون ملک ہے تو پھر بھی چھاپہ کیوں مارا گیا؟ عدالت نے کہا کہ سنگین جرم ہو تو چھاپہ مارا جاتا ہے ، چیک باؤنس کے مقدمے میں چھاپہ کیوں مارا گیا؟ بینچ نے قرار دیا کہ اغوا برائے تاوان کے مقدمے کی تحقیقات ضروری ہیں اور عدالت تحقیقات سے نہیں روک سکتی۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا اغوا برائے تاوان کے مقدمے میں درخواست گزار نامزد ہے اور اگر وہ بیرون ملک تھا تو کیسے نامزد کیا گیا؟ سرکاری وکیل نے بتایا کہ درخواست گزار کو اعانت جرم کے الزام میں نامزد کیا گیا ہے اور بیرون ملک بیٹھ کر بھی اغوا کی ہدایت دی جاسکتی ہے۔ اس موقع پر وکیل مدعی افتخار شاہ نے مؤقف اختیار کیا کہ بانی ایم کیو ایم بھی باہر بیٹھ کر احکامات دیتے تھے۔