پولیس چیف کا ایس ایچ اوز کی تعیناتی کے معیار میں تبدیلیوں کا عندیہ
ایس ایچ اوزکے لیے لازم ہوگا کہ وہ کم ازکم ایک سال تک کراچی میں سکونت اختیارکرچکا ہو،کارکردگی ایس ایس پیز بتائیں گے بڑا مسئلہ اسٹریٹ کرائم ،جرائم کی موجودگی سے انکارممکن نہیں،آزادخان کی صحافیوں سے گفتگو،تفتیشی نظام پراظہارتشویش
کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)کراچی پولیس چیف آزاد خان کا کہنا ہے کہ ایس ایچ اوز کی تعیناتی کے معیارمیں معمولی تبدیلیاں کی جائیں گی۔ ایس ایچ اوزکے لیے لازم ہوگا کہ وہ کم ازکم ایک سال تک کراچی میں سکونت اختیارکرچکا ہو۔ صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں پولیس چیف کا کہنا تھا میں اپنا ایک بھی ایس ایچ او نہیں لگاؤں گا ۔ ایس ایچ اوز لگانے کا اختیار اضلاع کے ایس ایس پیز کا ہے ۔ ایس ایچ اوز کی کارکردگی کے حوالے سے ایس ایس پیز سے پوچھا جائے گا۔ اگر میں اپنا ایس ایچ او لگاؤں گا تو پھر ایس ایس پیز سے ان کی کارکردگی کے حوالے سے کیسے پوچھ سکتا ہوں ؟۔
تسلیم کیا کہ کراچی کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ اسٹریٹ کرائم ہے ،اگرچہ اس حوالے سے منفی تاثر بعض اوقات حقیقت سے زیادہ ہوتا ہے ، تاہم جرائم کی موجودگی سے انکارممکن نہیں۔سال 2012 اور 2013 کے مشکل دور کے بعد امن و امان کی صورتحال میں بہتری آئی ہے ،مگر ابھی مزید کام کی ضرورت ہے ۔ پولیس چیف نے تفتیشی نظام پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کم سزا کی شرح اس بات کا ثبوت ہے کہ پولیس، پراسیکیوشن اورعدالتی نظام کے درمیان خلا موجود ہے ۔تفتیشی افسران کی تربیت، استعداد کاراورپیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بہتربنانا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔منشیات اور منظم جرائم پر بات کرتے ہوئے کراچی پولیس چیف نے واضح کیا کہ آرگنائزڈ کرائم پولیس کی سرپرستی کے بغیر ممکن نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جہاں کہیں غیر قانونی سرگرمیاں کھلے عام ہو رہی ہوں، وہاں متعلقہ تھانے اورافسران کی جوابدہی لازم ہے ۔ پولیس کے اندر احتساب کو یقینی بنایا جائے گا اورصحیح افسر کو صحیح جگہ تعینات کیا جائے گا۔انہوں نے شہر میں موجود سسٹم کی موجودگی ،مافیا، سیاسی دباؤ اور مالی مفادات کو بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ دیانت داری اوران کی ساکھ ہی ان کا سب سے بڑا اثاثہ ہے ، جس پر کسی صورت سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔آخرمیں کراچی پولیس چیف نے کہا کہ درست نیت، محنت اورصاف قیادت کے ساتھ اصلاحات ممکن ہیں اورصحافیوں کے تعاون سے پولیسنگ کے نظام کومزید بہتربنایا جا سکتا ہے۔