ایک ماہ کے دوران بھتہ خوری کی 19، اسٹریٹ کرائم کی 5100 سے زائد وارداتیں رپورٹ
شہری ایک ہزار 441موبائل فونز سے بھی محروم ،3ہزار 509موٹر سائیکلیں چوری و چھینی گئیں ،ڈکیتی مزاحمت سمیت فائرنگ کے دیگر واقعات میں 50افراد قتل بھی ہوئے
کراچی(اسٹاف رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک)کراچی میں بھتہ خوری اور اسٹریٹ کرائم کی وارداتیں رک نہ سکیں ایک ماہ کے دوران بھتہ خوری کے 19 جبکہ اسٹریٹ کرائم کی پانچ ہزار ایک سو سے زائد وارداتیں رپورٹ ہوئیں۔سٹیزن پولیس لائژن کمیٹی (سی پی ایل سی) کی جانب سے جاری کیے جانے والے اعدادوشمار کے مطابق رواں سال کے پہلے مہینے کراچی پولیس بھتہ خوری،اسٹریٹ کرائم اور موٹر سائیکلوں کی چوری روکنے میں ناکام رہی۔
رواں سال کے پہلے مہینے میں بھتہ خوری کی 19 وارداتیں رپورٹ ہوئیں ایک ماہ کے دوران شہری ایک ہزار 441 موبائل فونز سے بھی محروم ہوئے جبکہ شہر کے مختلف علاقوں سے 3 ہزار 509 موٹر سائیکلیں چوری و چھینی گئیں ایک ماہ کے دوران 156 شہریوں کو ان کی قیمتی گاڑیوں سے بھی محروم کردیا گیا۔ ڈکیتی مزاحمت سمیت فائرنگ کے دیگر واقعات میں 50 افراد قتل بھی ہوئے ۔دوسری جانب بھتہ خوری کی بڑھتے ہوئے واقعات پرتاجر برادری کی جانب سے بھی گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے ۔
تاجر برادری کا کہنا ہے کہ بھتہ خوروں کی جانب سے ابتدائی طورپر پہلے دھمکیاں دی جاتی ہے ۔عام طور پر کاروباری یا دکانداروں افراد کو فون یا میسج کرکے رقم طلب کی جاتی ہے پولیس حکام کے مطابق بھتہ خوری کے لئے غیر ملکی نمبروں کا استعمال کیا جاتا ہے ۔ بھتہ ادا نہ کرنے پر سنگین نتائج کی دھمکی دی جاتی ہے ، بھتہ خوروں کی جانب سے مخصوص علاقوں کے لیے مقامی گینگ وارکے شوٹرزمقرر کیے جاتے ہیں۔بھتہ خوروں کے میسیج یا کال کا جواب نہ دینے کی صورت میں فائرنگ کروائی جاتی ہے ۔