ڈی جی ایس بی سی اے تقرر کیخلاف دلائل مکمل، فیصلہ محفوظ

ڈی جی ایس بی سی اے تقرر کیخلاف دلائل مکمل، فیصلہ محفوظ

قوانین کے مطابق ڈی جی کا انجینئر یا آرکیٹیکٹ ہونا لازمی ہے ، درخواست گزار

کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائی کورٹ نے ڈی جی ایس بی سی اے کے تقرر کیخلاف درخواستوں پر دلائل مکمل ہونے پرفیصلہ محفوظ کرلیا۔سابق ڈی جی کے وکیل بیرسٹر طلحہ عباسی نے مؤقف اختیار کیا کہ سابق ڈی جی رشید سولنگی ریٹائر ہوچکے ہیں، لہٰذا ان کے خلاف درخواست غیر مؤثر ہوچکی ہے ۔ اس پر درخواست گزار طارق منصور نے کہا کہ درخواست غیر مؤثر نہیں ہوئی اور تقرر کے قانونی پہلوؤں کا جائزہ لینا ضروری ہے ۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا ریٹائرڈ افسر کو جیل میں ڈلوانا چاہتے ہیں؟ ۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ قوانین کے مطابق ڈی جی ایس بی سی اے کا انجینئر یا آرکیٹیکٹ ہونا لازمی ہے اور مطلوبہ قابلیت نہ رکھنے والے ڈی جی کے دور میں کیے گئے اقدامات کی قانونی حیثیت جانچنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سنار کا کام درزی نہیں کرسکتا۔ درخواست گزار نے مزید کہا کہ ڈی جی ایس بی سی اے کا تقرر قوانین کے برخلاف کیا گیا، اور موجودہ ڈی جی بھی انجینئر یا آرکیٹیکٹ نہیں بلکہ کیڈر افسر ہیںسرکاری وکیل نے بتایا کہ رشید سولنگی پی ایس ایس افسر تھے ۔ عدالت نے سوال کیا کہ کیا پی ایس ایس افسر کیڈر افسر ہوتے ہیں اور کیا سندھ حکومت چیف سیکریٹری لگا سکتی ہے ؟ ۔ ایس بی سی اے کے وکیل اسد اللہ بلو ایڈووکیٹ نے کہا کہ حکومت نے ڈی جی کے عہدے کو کیڈر پوسٹ قرار دے کر اس کا اسکوپ بڑھایا۔ عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں