شہید کوٹہ پر پولیس میں بھرتیوں کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
حل کے لیے ایڈیشنل آئی جی کی سربراہی میں کمیٹی بنائی جا سکتی ہے،عدالت
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے شہید کوٹہ پر پولیس میں بھرتیوں کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔ درخواست گزار طارق خان نے عدالت کو بتایا کہ انہیں سن کوٹہ میں 2016 میں اے ایس آئی کے عہدے پر بھرتی کیا گیا، جبکہ ان کے بعد سن اور شہید کوٹہ میں انسپکٹر اور اس سے اوپر کے عہدوں پر بھی بھرتیاں کی گئیں۔ انہوں نے موقف اختیار کیا کہ کسی کو اے ایس آئی اور کسی کو انسپکٹر بھرتی کرنا امتیازی سلوک کے مترادف ہے اور انہیں بھی بالائی رینک پر بھرتی کیا جائے یا پھر دیگر افسران کو برطرف کیا جائے۔
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل صفدر ڈیپر نے عدالت کو بتایا کہ اے ایس آئی کی بھرتی بھی کمیشن کے ذریعے کی جاتی ہے اور بظاہر درخواست گزار کی بھرتی بھی درست نہیں ہوئی۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ تم خود کیوں اپنی نوکری کے پیچھے پڑے ہو اور اس بات پر زور دیا کہ معاملے کے حل کے لیے ایڈیشنل آئی جی کی سربراہی میں کمیٹی بنائی جا سکتی ہے ۔ فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔