ایل بی اوڈی میں زہریلے پانی کا اخراج بدستور جاری
صنعتی فضلہ، شوگر ملوں کا کیمیکل ملا پانی ودیگر آلودہ مواد شامل کیا جارہاوسطی وجنوبی سندھ کے ماحول اور انسانی زندگی کو شدید خطرات لاحق
پنگریو (نامہ نگار)سندھ کے متعدد اضلاع سے گزرکرسمندرمیں اخراج ہونے والے دیوہیکل سیم نالے لیفٹ بینک آؤٹ فال ڈرین (ایل بی او ڈی) اور اس کے ذیلی سیم نالوں میں زہریلے پانی کی نکاسی بدستور جاری ہے ، جس سے وسطی اور جنوبی سندھ کے ماحولیاتی و انسانی زندگی کے لیے شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں یہ ڈرینج نظام ابتدا میں زرعی زمینوں سے سیم اور بارش کے اضافی پانی کی نکاسی کے لیے تعمیر کیا گیا تھا، مگر اب اس میں صنعتی فضلہ، شوگر ملوں کا کیمیکل ملا پانی اور دیگر آلودہ مواد شامل ہو رہا ہے ۔ اس سے نہ صرف پانی کی کوالٹی بری طرح متاثر ہوئی ہے ، بلکہ آبی حیات اور انسانی زندگی بھی شدید خطرے میں ہیں۔ ایل بی او ڈی سندھ کے متعدد اضلاع سے گزرتا ہے اور اپنے ساتھ متعدد ذیلی سیم نالوں سے آنے والا صنعتی و شہری فضلہ بھی لے جاتا ہے ۔ ذرائع کے مطابق ذیلی سیم نالوں میں صنعتی فضلے کا اخراج بغیر ٹریٹمنٹ کے ہو رہا ہے ، جس سے پانی کا رنگ سیاہی مائل اور بدبو شدید ہو چکی ہے ۔ ماہرین کے مطابق کیمیکل اور زہریلے پانی سے سیم نالوں اور ایل بی او ڈی میں آکسیجن کی سطح کم ہو گئی ہے ، جس سے مچھلیاں، جھینگے اور دیگر آبی جاندار تیزی سے ہلاک ہو رہے ہیں۔ کئی مقامات پر مردہ مچھلیوں کی بڑی تعداد دیکھی گئی ہے ، جو ماحولیاتی توازن کے بگڑنے کا واضح ثبوت ہے۔