دڑو، گردونواح میں مضر صحت خوردنی آئل و گھی کی فروخت

دڑو، گردونواح میں مضر صحت خوردنی آئل و گھی کی فروخت

ہزاروں افراد ہپاٹائٹس، کینسر، آنتوں، جگر، گردے و دیگر بیماریوں میں مبتلا ہو گئےضلع انتظامیہ، محکمہ خوراک کارروائی میں ناکام، شہریوں کا حکومت سے نوٹس کا مطالبہ

دڑو (نمائندہ دنیا) دڑو اور گردونواح میں بڑے پیمانے پر جعلی اور غیر معیاری خوردنی آئل اور گھی کی فروخت کا انکشاف، غیر رجسٹرڈ اور غیر معیاری آئل و گھی کی فروخت اور استعمال سے ہزاروں افراد ہپاٹائٹس، کینسر، آنتوں، جگر، گردے اور دیگر مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو گئے ، جبکہ انتظامیہ کارروائی میں ناکام ہے ۔ تفصیلات کے مطابق دڑو، بنوں، ابرال، میرپور بٹھورو، لائق پور، جھوک شریف اور دیگر چھوٹے بڑے شہروں میں جعلی اور غیر معیاری خوردنی آئل اور گھی کی فروخت دھڑلے سے جاری ہے ۔ جعلی آئل 150 روپے سے 250 روپے فی کلو فروخت کیا جا رہا ہے ،جبکہ حکومت سے رجسٹرڈ اور منظور شدہ معیاری تیل 480 سے500 روپے فی لٹر فروخت کیا جا رہا ہے۔

بڑے پیمانے پر جعلی گھی اور تیل کی فروخت کے باعث ہزاروں افراد مختلف وبائی امراض میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ جبکہ ضلع سجاول کی انتظامیہ یا محکمہ فوڈ نے تاحال جعلی اور غیر معیاری تیل و گھی کی روک تھام کیلئے کوئی کارروائی نہیں کی۔ ہوٹلوں،پکوڑے ، سموسے ، مٹھائی کی دکانوں میں بھی یہی مضر صحت تیل و گھی استعمال کیا جا رہا ہے ، جس سے ہپاٹائٹس بی، سی، دل ، پیٹ کی بیماریاں، السر اور کینسر کے مریض بڑھتے جا رہے ہیں۔ اہل علاقہ نے حکومت، ڈی سی سجاول اور محکمہ فوڈ سے مطالبہ کیا کہ غیر معیاری تیل و گھی کی فروخت کے خلاف سخت کارروائی اور عوام کو بیماریوں سے بچایا جائے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں