اراضی ریگولرائزیشن کے خلاف درخواستیں مسترد

اراضی ریگولرائزیشن کے خلاف درخواستیں مسترد

معاملات کے لیے متعلقہ فریقین کو سول عدالت سے رجوع کرنا ہوگا ملکیت، لیز اور متعلقہ تنازعات آئینی دائرہ اختیار میں نہیں آتے ،عدالت

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ نے گلشن اقبال میں اراضی کی ریگولرائزیشن کے خلاف دائر مختلف درخواستوں کی سماعت کے دوران دو درخواستیں ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ زمین کی ملکیت، لیز اور متعلقہ تنازعات آئینی دائرہ اختیار میں نہیں آتے ، ایسے معاملات کے لیے متعلقہ فریقین کو سول عدالت سے رجوع کرنا ہوگا۔ درخواست گزاروں کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ کے ڈی اے نے ماسٹر پلان کے تحت مذکورہ اراضی کو پٹرول پمپ کے لیے مختص کیا تھا، تاہم اس پر کثیر المنزلہ عمارت کی اجازت دینا غیر قانونی ہے ۔سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اراضی کی الاٹمنٹ 1963 میں کے ڈی اے اسکیم سے قبل ہی ہو چکی تھی اور درخواست گزار اس معاملے میں فریق بھی نہیں ہیں۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ مقدمے کا بنیادی نکتہ زمین کی ملکیت، لیز اور مختلف اداروں کے دائرہ اختیار کے تعین سے متعلق ہے ، جس کا فیصلہ آئینی درخواست کے ذریعے نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے مزید قرار دیا کہ رجسٹرڈ لیز کی منسوخی اور ملکیت کے تعین جیسے معاملات صرف سول عدالت ہی طے کر سکتی ہے اور آئینی عدالت کسی صورت سول عدالت کا متبادل فورم نہیں بن سکتی۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ بظاہر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا منظور کردہ تعمیراتی پلان قانونی تقاضوں کے مطابق ہے جبکہ درخواست گزار کسی غیر قانونی اقدام کا ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہے ۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ تاحال اراضی پر کوئی تعمیر شروع نہیں ہوئی ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں