ممکنہ برسات :پیشگی اقدامات نظرانداز،بلدیاتی ادارے غیر فعال
چھوٹے بڑے نالوں میں کچرے کے ڈھیر اور بوسیدہ حال سیوریج سسٹم برسات میں نکاسی آب کے مسائل کا سبب بن سکتا،حادثات رونما ہونے کا بھی خدشہ نالوں کی حفاظتی دیواریں غائب، ماضی میں حادثات ہونے کے باوجود بھی مخدوش عمارتوں کو خالی نہیں کرایا جاسکا ، مکینوں کی زندگیاں بھی خطرات سے دوچار
کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)کراچی میں متوقع برسات کے باوجود پیشگی اقدامات نظرانداز ، ممکنہ برسات کے باوجود متعلقہ بلدیاتی ادارے فعال نہ ہوسکے ۔ چھوٹے بڑے نالوں میں کچرے کے ڈھیر اور بوسیدہ حال سیوریج سسٹم برسات میں نکاسی آب کے مسائل کا سبب بن سکتا ہے ۔ سڑکیں اور رہائشی علاقوں میں پانی جمع ہونے کی صورت میں شہریوں کو مشکلات پیش آنے اور حادثات رونما ہونے کا بھی خدشہ ہے ۔شہر میں 38 بڑے اور 500 سے زائد چھوٹے نالوں میں مختلف مقامات پر کچرے کے ڈھیر اور چوکنگ پوائنٹس کے باعث برسات میں نکاسی آب کے مسائل پیش آنے کا خدشہ ہے ۔ جبکہ شہر میں سیوریج کے بوسیدہ نظام کے باعث بھی شہریوں کو سخت مشکلات پیش آسکتی ہیں ۔ متعدد چھوٹی بڑی سڑکوں سمیت رہائشی علاقوں میں سیوریج مسائل کے باعث بھی پانی جمع ہونے کا خدشہ ہے ۔ جس سے شہریوں کی مشکلات بڑھ سکتی ہیں ۔ شہر میں مصروف سڑکوں سمیت رہائشی علاقوں میں کھلے مین ہولز اور مختلف مقامات پر ترقیاتی کاموں اور دیگر وجوہات کے باعث بڑے بڑے گڑھے حادثات کا بھی سبب بن سکتے ہیں ۔ کئی مقامات پر نالوں کی حفاظتی دیواریں نہ ہونے کے باعث بھی حادثات پیش آنے کا خدشہ ہے ۔
جس کے باوجود متعلقہ بلدیاتی ادارے تاحال فعال نہیں ہوسکے ہیں ۔ بلدیاتی اداروں کی غفلت و لاپروائی کے باعث برسات میں نکاسی آب کے مسائل کے باعث شہریوں کو مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ شہر میں ممکنہ برسات کے دوران مخدوش عمارتوں سے بھی حادثات کا خطرہ ہے ۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی جانب سے شہر میں400اور سندھ بھر میں سات سو سے زائد مخدوش عمارتوں کو ناقابل رہائش قرار دیا گیا ہے ۔ تاہم ماضی میں کئی حادثات رونما ہونے باوجود بھی مخدوش عمارتوں کو خالی نہیں کرایا جاسکا ہے ۔ جس کے باعث خطرناک عمارتوں کے مکینوں کی زندگیاں بھی خطرات سے دوچار ہیں ۔ حکومتی اقدامات التوا کا شکار نظر آتے ہیں ۔ کے ایم سی حکام کے مطابق نالوں میں چوکنگ پوائنٹس کلیر کرنے کیلیے بھی برسات کے دوران بھی ہیوی مشینری اور عملہ کام کرتا رہے گا ۔ واضح رہے کہ شہر کے 38بڑے نالے کی صفائی کے ایم سی اور 500سے زائد چھوٹے نالوں کو بہتر رکھنے کی زمیداری ٹاؤن انتظامیہ کی ہے ۔ جس کے باوجود ٹاؤنز انتظامیہ غیر فعال نظر آتی ہے ۔ متعلقہ بلدیاتی ادارے موثر اقدامات کے بجائے نمائشی اقدامات کو ترجیح دے رہے ہیں ۔