وال چاکنگ، پوسٹرز اور بینرزکے خاتمے کی ہدایت
قانون پر عملدرآمد نہ ہونے پر چیف سیکریٹری سے تفصیلی رپورٹ طلب
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ نے صوبے بھر میں وال چاکنگ، پوسٹرز اور بینرز کے خاتمے سے متعلق قانون پر عملدرآمد نہ ہونے پر چیف سیکریٹری سندھ سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی اور متعلقہ حکام کو فوری اقدامات کی ہدایت کردی۔ جسٹس عدنان الکریم میمن اور جسٹس ذوالفقار علی سانگی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے طارق منصور ایڈووکیٹ کی آئینی درخواست کی سماعت کی۔ درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ پریوینشن آف ڈیفیسمنٹ آف پراپرٹی ایکٹ کے تحت صوبے بھر میں پراپرٹیز پر وال چاکنگ، پوسٹرز، بینرز اور اشتہارات لگانے پر پابندی عائد ہے، تاہم ایک دہائی گزرنے کے باوجود اس قانون پر عملدرآمد نہیں کیا جارہا، خصوصاً کراچی میں صورتحال انتہائی خراب ہے۔
عدالت نے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ مذکورہ قانون ایک مؤثر اور نافذ العمل قانون ہے جس پر عملدرآمد حکومت اور مقامی اداروں کی آئینی و قانونی ذمہ داری ہے ۔عدالت نے آبزرویشن دی کہ جب کسی قانون میں سرکاری اداروں کو مخصوص مدت میں اقدامات کا پابند بنایا جائے تو اس پر عملدرآمد لازمی ہوتا ہے ، اور اس میں ناکامی شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہے ۔ عدالت نے چیف سیکریٹری سندھ کو ہدایت کی کہ وہ پورے صوبے بشمول کراچی ڈویژن میں قانون پر عملدرآمد سے متعلق جامع رپورٹ پیش کریں۔