اسٹیل ملز ملازمین کو ایک ماہ میں بجلی کنکشن دینے کا حکم
تکنیکی و انتظامی جواز تسلیم نہیں،کے الیکٹرک واسٹیل ملز سربراہان طلب
کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائی کورٹ نے پاکستان اسٹیل ملز کے ریٹائرڈ ملازمین کو براہ راست بجلی کنکشن فراہم نہ کرنے پر کے الیکٹرک اور اسٹیل ملز کے خلاف برہمی کا اظہار کرتے ہوئے دونوں اداروں کے سربراہان کو 30 دن کے اندر عدالتی حکم پر عملدرآمد یقینی بنانے کا حکم دے دیا۔ جسٹس عدنان الکریم میمن اور جسٹس ذوالفقار علی سانگی پر مشتمل بینچ نے توہین عدالت کی درخواست کی سماعت کی۔ وکیل درخواست گزار نے بتایا کہ درخواست گزاروں کو 14 مارچ 2025 کے عدالتی حکم کے باوجود براہ راست بجلی کنکشن فراہم نہیں کیے گئے ۔کے الیکٹرک کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ تاخیر کی ذمہ داری پاکستان اسٹیل ملز پر عائد ہوتی ہے کیونکہ اس کا بجلی کا نظام تکنیکی اور حفاظتی تقاضوں پر پورا نہیں اترتا۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ تکنیکی اور انتظامی مسائل کو جواز بنا کر عدالتی احکامات پر غیر معینہ مدت تک عملدرآمد مؤخر نہیں کیا جا سکتا ۔ عدالت نے حکم دیا کہ عدالتی حکم پر عدم تعمیل کی صورت میں دونوں اداروں کے سربراہان کے خلاف آئین کے آرٹیکل 204 کے تحت توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جائے گی۔ عدالت نے متعلقہ افسران کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہو کر عملدرآمد رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت ایک ماہ کیلئے ملتوی کر دی۔