سکھر:اربوں روپے بجٹ، سول اسپتال میں سہولتیں نایاب، سماجی رہنما

سکھر:اربوں روپے بجٹ، سول اسپتال میں سہولتیں نایاب، سماجی رہنما

غربت، مہنگائی، بیروزگاری کے مارے عوام علاج کیلئے شدید پریشان ہیں، جاوید میمناسپتال میں سرنج تک دستیاب نہیں، سی ٹی اسکین، الٹرا ساؤنڈ ودیگر مشینیں خراب، بیان

سکھر(بیورو رپورٹ)سکھر ڈیویلپمنٹ الائنس کے چیئرمین حاجی محمد جاوید میمن و دیگر نے کہا ہے کہ اربوں روپے کے فنڈز کے باوجود سول اسپتال صحت کی بنیادی سہولت فراہمی میں مکمل ناکام ہے ،غربت، مہنگائی، بیروزگاری کے مارے عوام علاج معالجے کیلئے شدید پریشان ہیں، سول اسپتال میں ادویات تو کیا سرنج تک دستیاب نہیں، جبکہ اربوں روپے کی سی ٹی اسکین، الٹر ساؤنڈ، ایکسرے مشینیں غیر فعال ہیں، غریب عوام نجی لیبارٹریوں اور اسپتالوں سے بھاری رقوم خرچ کر کے علاج کرانے پر مجبور ہیں جس کا شہر کے منتخب نمائندوں اور انتظامیہ کو ذرہ برابر بھی احساس نہیں۔ مشترکہ بیان میں ایس ڈی اے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی کے بلند و بانگ دعوے کیے جاتے ہیں لیکن حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں، سول اسپتال جہاں پر سندھ، بلوچستان کے افراد علاج کیلئے آتے ہیں میں اکثر ڈاکٹرز ڈیوٹی سے غیر حاضر رہتے ہیں، اگر جونیئر ڈاکٹرز کی جانب سے مریضوں کا معائنہ کر بھی لیا جائے تو انہیں ادویات تک دستیاب نہیں ملتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سول اسپتال میں اربوں روپے کا فنڈز کہاں استعمال کیا جاتا ہے کہ اس کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ اسپتال میں صحت کی ناپید سہولیات کا فوری نوٹس لیکر وہاں بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائیں، بصورت دیگر بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں