سندھ میں گندم خریداری بحران کاشکار، آٹے کی قلت کاخدشہ
ہدف سے کہیں کم گندم خریداری کی اطلاعات، نجی مارکیٹ کسانوں کی ترجیح35سوکے بجائے 38سومیں فروخت، کئی سرکاری خریداری مراکز غیر فعال
پنگریو (نامہ نگار)سندھ میں گندم خریداری مہم بحران کا شکار ہونے سے صوبے میں آٹے کی شدید قلت کا خطرہ بڑھ گیا ہے ، جبکہ ماہرین، کسان تنظیموں اور مارکیٹ ذرائع نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے فوری اقدامات نہ کیے تو آنے والے مہینوں میں عوام کو مہنگے آٹے اور گندم کی قلت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ سرکاری سطح پر رواں سیزن کے دوران گندم خریداری کا ہدف 10 لاکھ میٹرک ٹن مقرر کیا گیا تھا تاہم تازہ اعدادوشمار کے مطابق اپریل کے آخری ہفتے تک صرف تقریباً 8 ہزار 958 سے 10 ہزار میٹرک ٹن گندم ہی خریدی جاسکی جو مجموعی ہدف کا تقریباً ایک فیصد بنتی ہے ۔
تحقیقی جائزے کے مطابق سندھ حکومت نے گندم کی امدادی قیمت 3500 روپے فی 40 کلو مقرر کی جبکہ نجی مارکیٹ میں گندم 3800 روپے فی 40 کلو تک فروخت ہونے کے باعث بیشتر کاشتکاروں نے سرکاری مراکز کے بجائے اوپن مارکیٹ میں فروخت کو ترجیح دی۔ کسان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ کم امدادی قیمت، سست خریداری نظام اور ناقص حکمت عملی کے باعث سرکاری مہم بری طرح متاثر ہوئی۔ کسان تنظیموں نے الزام عائد کیا کہ صوبے کے مختلف اضلاع میں گندم خریداری مراکز انتہائی تاخیر سے قائم ہوئے جبکہ کئی مراکز مکمل فعال ہی نہ ہوسکے ۔ خریداری کا عمل صرف سندھ ویٹ گروؤرز سپورٹ پروگرام کے تحت رجسٹرڈ کسانوں تک محدود رکھا جس سے ہزاروں دیگر آبادگار سرکاری خریداری سہولت سے محروم رہے۔