کھپرو:اسکول کی عمارت نہ ہونے سے طلبا کوشدید مشکلات

کھپرو:اسکول کی عمارت نہ ہونے سے طلبا کوشدید مشکلات

70سے زائد بچے زیرتعلیم، سخت گرمی میں کھلے آسمان تلے پڑھنے پرمجبورسال 2015میں مخیر شخص کابنایا کمرہ طوفانی بارشوں کی نذر ہوچکا، مکین

کھپرو (نامہ نگار)کھپرو کی یونین کونسل حافظ راجڑ میں واقع گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول اکبر علی گلیو کی عمارت نہ ہونے کے باعث طلبہ کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔ اسکول میں روزانہ ستر سے زائد بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں، جو اس وقت سخت گرمی اور دھوپ میں کھلے آسمان تلے پڑھنے پر مجبور ہیں۔ مقامی افراد کے مطابق اسکول کی باقاعدہ عمارت موجود نہیں۔ سال 2015 میں ایک مخیر شخص نے ایک عارضی کمرہ تعمیر کیا تھا، جہاں محدود سہولیات کے ساتھ تدریسی عمل جاری تھا۔ تاہم گزشتہ سال طوفانی بارشوں کے باعث اس ڈھانچے کی چھت بھی اڑ گئی، جس کے بعد طلبہ کے لیے تعلیمی ماحول مکمل طور پر متاثر ہو چکا ہے ۔ گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ اسکول میں زیر تعلیم بیشتر بچے غریب اور وسائل سے محروم خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں، جو پہلے ہی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر فوری طور پر کوئی متبادل انتظام نہ کیا گیا تو بچوں کی تعلیم بری طرح متاثر ہو سکتی ہے ۔ مقامی افراد نے اعلیٰ حکام، ضلعی انتظامیہ اور منتخب نمائندوں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اسکول کے لیے فوری طور پر عارضی چھت یا شیلٹر فراہم کیا جائے ، جبکہ مستقل بنیادوں پر عمارت، فرنیچر اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ بچوں کو محفوظ اور بہتر تعلیمی ماحول میسر آ سکے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں