سجاول:قاتل کوسزائے موت کا حکم، 10 لاکھ روپے جرمانہ
فرسٹ ایڈیشنل سیشن جج کافیصلہ، فقیر محمد نے 4سال قبل دھنی بخش کوقتل کیا تھاگھریلو تنازع پرواردات، عدالت نے 2 ملزموں گل محمد، فیض کندرا کو بری کردیا
بدھوتالپر (نامہ نگار)فرسٹ ایڈیشنل سیشن جج سجاول سید اعجاز علی شاہ کی عدالت نے تھانہ بنوں کے مقدمہ نمبر 37/2022 زیر دفعہ 302,34 PPC میں نامزد ملزم فقیر محمد عرف فکر کندرا کے خلاف قتل کا جرم ثابت ہونے پر فیصلہ سناتے ہوئے مجرم کو سزائے موت اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے ۔ تاہم معزز عدالت نے مقدمہ میں نامزد دیگر دو ملزمان گل محمد کندرا اور فیض محمد کندرا کے خلاف الزام ثابت نہ ہونے پر انہیں باعزت بری کرنے کا حکم بھی جاری کیا۔استغاثہ کے مطابق مذکورہ مقدمہ مدعی محمد رمضان کندرا کی مدعیت میں اپنے مقتول بیٹے دھنی بخش ولد محمد رمضان کندرا کے قتل کے الزام میں درج کیا گیا تھا۔ مقدمہ کے مطابق سال 2022 میں گھریلو تنازع کے دوران تقریباً 35 سے 36 سالہ دھنی بخش کو قتل کر دیا گیا تھا۔کیس کی تفتیش انسپکٹر غلام قادر شورو نے پیشہ ورانہ انداز میں مکمل کی، جبکہ عدالت میں مقدمہ کی مؤثر پیروی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکوٹر (ADPP) منور علی دایو نے کی، جس کے نتیجے میں استغاثہ جرم ثابت کرنے میں کامیاب رہا اور معزز عدالت نے ملزم کو قرار واقعی سزا سنائی ہے ۔ایس ایس پی سجاول علینہ راجپرنے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی اور متاثرین کو انصاف کی فراہمی کے لیے ہر ممکن قانونی اقدامات بروئے کار لائے جائیں گے ۔