نالوں کے ساتھ ملحقہ زمینیں واسا کے نام منتقل نہ ہوسکیں
اراضی کی عدم منتقلی کے باعث انتظامیہ محدود اختیارات کے ساتھ کام کر رہی مافیا کیخلاف کارروائی متاثر ،نرسریاں قانونی دائرہ میں لانے کیلئے ورکنگ جاری :حکام
لاہور (سٹاف رپورٹر سے )شہر کے گندے نالوں کے اطراف موجود سرکاری اراضی کے تحفظ اور استعمال سے متعلق ایک اہم معاملہ کئی دہائیوں بعد بھی حل نہ ہو سکا۔ واسا کی ملکیتی زمینوں پر قائم نرسریوں کا مستقبل بدستور غیریقینی ہے جبکہ ادارہ اپنی ہی اراضی کے تحفظ میں مشکلات کا شکار دکھائی دیتا ہے ۔ذرائع کے مطابق شہر کے مختلف نالوں کے ساتھ واقع زمینیں چالیس سال گزرنے کے باوجود واسا کے نام منتقل نہیں کی جا سکیں۔ اراضی کی عدم منتقلی کے باعث انتظامیہ کئی معاملات میں محدود اختیارات کے ساتھ کام کر رہی ہے جبکہ قبضہ مافیا اور غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف کارروائی بھی متاثر ہو رہی ہے ۔زمین کی منتقلی کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے لینڈ ایکوزیشن کلکٹر نے ڈپٹی کمشنر آفس کو خط ارسال کیا، تاہم اس حوالے سے کوئی مؤثر پیش رفت سامنے نہ آسکی۔ دوسری جانب ریونیو حکام کی مسلسل تاخیر کے باعث کینٹ ڈرین، ستوکتلہ نالہ اور سادھوکی کے علاقوں سے متعلق اراضی کا انتقال بھی رکا ہوا ہے۔دوسری جانب واسا انتظامیہ کا کہنا ہے کہ نرسریوں سے کرایوں کی وصولی کے معاملے کو گورننگ باڈی کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا جبکہ نرسریوں کو قانونی دائرہ کار میں لانے کے لیے ورکنگ پیپر بھی تیار کر لیا گیا ہے ۔