ایچ نائن اتواربازار میں آتشزدگی،9سالوں میں چھٹا بڑاواقعہ
گزشتہ روز380 ، جولا ئی 2024میں 700،دسمبر2022میں 300سٹال بھسم اکتوبر 2019میں 300، جولائی 2018میں 110، اگست 2017میں 550دکانیں جلیں
اسلام آباد (ماہتاب بشیر)سیکٹر ایچ نائن میں ایم سی آئی کے زیرِ انتظام سستے بازار میں گزشتہ روزپیش آنے والا آتشزدگی کا نو سالوں میں چھٹا بڑا واقعہ ہے جس میں کروڑوں روپے کا مالی نقصان ہوا مگر کبھی ان حادثات کے ذمہ دار ان کا تعین ہو سکا نہ سٹال ہو لڈرز کے نقصان کی تلافی کی گئی ۔ 23 جون 2026 کو پیش آنے والے آتشزدگی کے واقعے میں 380 سے زائد سٹالز مکمل طور پر جل کر خاکستر ہو گئے ۔ یہ واقعہ اس حوالے سے مزید سنگین ہے کہ گزشتہ کچھ برسوں میں بھی اس بازار میں بڑے پیمانے پر آگ لگنے کے واقعات تواتر سے رونما ہوتے رہے ہیں۔ 10 جولائی 2024 کو لگنے والی آگ میں تقریباً 700 سٹالز جلے جو اب تک کا سب سے بڑا حادثہ تھا۔ 7 دسمبر 2022 کو آگ کے اس واقعے میں 300 سے زائد دکانیں راکھ ہو ئیں ۔ 30 اکتوبر 2019 کو بازار میں ایک بار پھر آگ لگی جس نے 300 سے زائد سٹالز کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ 19 جولائی 2018 کو 110 سٹالز متاثر ہوئے جبکہ 24 اگست 2017 کو 550 سٹالز جل کر خاکستر ہو گئے ۔ سابق چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے متاثرہ سٹال ہولڈرز کی امداد کا اعلان کیا تھا اور واقعے کی انکوائری بھی کی گئی تھی، تاہم سٹال ہولڈرز کو کوئی مالی مدد فراہم نہیں کی جا سکی۔ اسی طرح بازار میں سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کا منصوبہ بنایا گیا تھا جس پر عملد ر آمد نہ ہو سکا۔ اس سلسلے میں ڈائریکٹر ڈی ایم اے ڈاکٹر انعم فاطمہ کا کہنا ہے کہ ماضی میں اس بازار میں آگ لگنے کی مختلف وجوہات سامنے آ چکی ہیں، آگ لگنے کے واقعات کی روک تھام کے لیے باہر سے آنے والے افراد کی مداخلت کو روکا گیا ہے اور بازار میں کرایہ پر سٹالز دینے والوں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے ، بازار میں سولر پینل کی بیٹری رکھنے کی قطعاً اجازت نہیں ، اس بار سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے آگ کی حقیقی وجوہات کا تعین کیا جائے گا۔ تاہم تاجروں اور شہریوں کا کہنا ہے کہ محض وعدوں اور تحقیقات سے نقصان پورا نہیں ہو سکتا، انہیں ٹھوس اقدامات اور بروقت معاوضے کی ضرورت ہے ۔