برطرف ملازمین کی عدم بحالی پرتوہین عدالت کارروائی کاانتباہ
سیکریٹری بلدیات عدالتی فیصلے پرمن وعن عملدرآمد یقینی بنائیں، سندھ ہائیکورٹ4 ملازمین بحال نہ ہوئے ، وکیل ، آئندہ سماعت پرعدالت میں عملدرآمد رپورٹ طلب
کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائی کورٹ نے عدالتی احکامات کے باوجود محکمہ بلدیات کے بعض برطرف ملازمین کو بحال نہ کرنے سے متعلق توہین عدالت کی درخواست کی سماعت کے دوران سیکریٹری بلدیات اور دیگر حکام کو ہدایت کی ہے کہ عدالتی فیصلے پر من و عن عمل درآمد یقینی بنایا جائے ، بصورت دیگر توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جا سکتی ہے ۔ سماعت کے دوران سیکریٹری بلدیات اور دیگر متعلقہ حکام عدالت میں پیش ہوئے ۔ درخواست گزاروں کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ سندھ ہائی کورٹ نے 2022 میں محکمہ بلدیات سے برطرف ملازمین کو بحال کرنے کا حکم دیا تھا، تاہم عدالتی فیصلے پر مکمل عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ درخواست کے مطابق محکمہ بلدیات نے 22 برطرف ملازمین میں سے 18 کو 2022 میں بحال کر دیا تھا، جبکہ باقی ملازمین تاحال بحال نہیں کیے گئے ۔ متاثرہ ملازمین نے عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ ہونے کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کر رکھی ہے ۔ دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیے کہ عدالتی احکامات پر من و عن عمل کیا جائے ۔ عدالت نے خبردار کیا کہ اگر عدالتی حکم پر مکمل عمل درآمد نہ ہوا تو متعلقہ حکام کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جائے گی۔ سیکریٹری بلدیات کی عدالت میں پیشی کے بعد عدالت نے ان کے خلاف جاری شوکاز نوٹس واپس لے لیا۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر عمل درآمد رپورٹ طلب کرتے ہوئے درخواست کی مزید سماعت 11 جون تک ملتوی کر دی۔