ایل ڈی اے کے 10منصوبے سالانہ ترقیاتی پروگرام سے خارج

ایل ڈی اے کے 10منصوبے سالانہ ترقیاتی پروگرام سے خارج

کئی بڑے ترقیاتی منصوبے بجٹ ڈرافٹ میں شامل نہیں ، بعض پر اعتراضات لاہور کے میگا پراجیکٹس کیلئے 40 ارب مختص کرنا انتظار کی فہرست میں شامل

لاہور(سٹاف رپورٹر سے )مالی سال 2026-27 کے مجوزہ سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی)میں لاہور کے کئی بڑے ترقیاتی منصوبے غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہو گئے ہیں،پنجاب حکومت نے لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے )کی جانب سے بھجوائی گئی متعدد ترقیاتی سکیموں کو ابتدائی بجٹ ڈرافٹ میں شامل نہیں کیا اور بعض منصوبوں پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔ذرائع کے مطابق ایل ڈی اے نے آئندہ مالی سال کیلئے جاری اور نئے میگا پراجیکٹس پر مشتمل تفصیلی منصوبہ حکومت پنجاب کو ارسال کیا تھا، تاہم ابتدائی جائزے میں 10 اہم منصوبے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے مسودے سے خارج کر دئیے گئے ۔ان منصوبوں میں ٹریفک کی روانی بہتر بنانے کیلئے عبدالستار ایدھی روڈ پر قزلباش چوک کے مقام پر مجوزہ انڈر پاس بھی شامل ہے ، جسے فی الحال مؤخر کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔ اسی طرح ڈیفنس روڈ کے گول چکر پر انڈر پاس کی تعمیر کے منصوبے کے بھی آئندہ مالی سال کے بجٹ میں شامل ہونے کے امکانات کم ہیں۔دوسری جانب شہری انفراسٹرکچر کی بہتری کیلئے ارفع کریم ٹاور سے پیکو روڈ تک سٹرکچر پلان روڈ کی تعمیر کو ترقیاتی پروگرام میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔کچہری چوک انڈر پاس منصوبے کی منظوری کو باقاعدہ بجٹ کے بجائے سپلیمنٹری گرانٹ سے مشروط کرنے کی سفارش کی گئی ہے جبکہ شمالی لاہور میں ایک نئے انڈر پاس اور ایٹ گریڈ کے پانچ ترقیاتی منصوبوں کیلئے بھی اضافی فنڈز کی شرط تجویز کی گئی ہے ۔ایل ڈی اے نے لاہور کے میگا پراجیکٹس کیلئے مجموعی طور پر 40 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی تھی تاہم وسائل اور ترقیاتی ترجیحات میں فرق کے باعث متعدد منصوبے فی الحال انتظار کی فہرست میں شامل ہو گئے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں