ڈاکٹر کو ملازمت میں توسیع نہ دینے کا فیصلہ کالعدم

ڈاکٹر کو ملازمت میں توسیع نہ دینے کا فیصلہ کالعدم

اسسٹنٹ پروفیسر کومستقل تقرری تک خدمات جاری رکھنے کی اجازت منفی کارکردگی رپورٹ کو بھی بدنیتی پر مبنی قرار دے کر غیر موثر کردی

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ نے جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈرماٹولوجی ڈاکٹر فریال کی ملازمت میں توسیع نہ دینے کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں مستقل تقرری تک خدمات جاری رکھنے کی اجازت دے دی، جبکہ عدالت نے ان کے خلاف مرتب کی گئی منفی کارکردگی رپورٹ کو بھی بدنیتی پر مبنی قرار دے کر غیر مؤثر قرار دے دیا۔ جسٹس محمد سلیم جیسر اور جسٹس نثار احمد بھنبھرو پر مشتمل آئینی بینچ نے ڈاکٹر فریال کی جانب سے دائر آئینی درخواست منظور کرتے ہوئے 18 اپریل 2026 کا آفس آرڈر کالعدم قرار دے دیا۔ سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ درخواست گزار ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ ڈاکٹر ہیں، یونیورسٹی نے اسسٹنٹ پروفیسر ڈرماٹولوجی کی مستقل اسامی کے لیے درخواستیں طلب کی تھیں اور درخواست گزار نے بھی درخواست دی۔

تاہم تاحال سلیکشن بورڈ کا اجلاس منعقد نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ درخواست گزار ایک سال سے زائد عرصے سے اسی مستقل نوعیت کی آسامی پر خدمات انجام دے رہی ہیں اور ان کی خدمات ختم ہونے سے طلبہ کی تعلیم متاثر ہوگی۔ یونیورسٹی کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزار کی تقرری کنٹی جنسی بنیاد پر تھی اور تقرری نامے میں واضح طور پر درج تھا کہ خدمات کسی بھی وقت بغیر نوٹس ختم کی جا سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شعبے کی سربراہ کی رپورٹ کے مطابق درخواست گزار کی کارکردگی تسلی بخش نہیں تھی، اس لیے ان کی مدت ملازمت میں توسیع نہیں کی گئی۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں