جامعہ کراچی کی گاڑیاں نجی آٹوز سے مرمت ہونے لگیں

 جامعہ کراچی کی گاڑیاں نجی آٹوز سے مرمت ہونے لگیں

شعبہ ٹرانسپورٹ ضروری آلات سے محروم،جامعہ پر اضافی مالی بوجھ پڑ گیاانجن کے خراب اور ٹائر تبدیل کروانے کے لیے باہر بھیجنا پڑ ا،محمددلدار

کراچی (این این آئی)جامعہ کراچی کے شعبہ ٹرانسپورٹ نے ضروری آلات نہ ہونے کے باعث جامعہ کی گاڑیاں نجی آٹوز سے مرمت کروانا شروع کردیں۔جامعہ پر اضافی مالی بوجھ پڑ گیا۔ تفصیلات کے مطابق شعبہ امتحانات کی ہائی ایس رجسٹریشن نمبر GL-5326کے ٹائر کی حالت خستہ ہونے اور بعد ازاں انجن خراب ہونے کے باعث ورک شاپ منتقل کردیا گیا ہے ،شعبہ ٹرانسپورٹ میں مرمت کے ضروری آلات نہ ہونے کے باعث اسے سہراب گوٹھ بھیجا گیا جس پر2لاکھ تک خرچہ آچکا ہے ۔ علاوہ ازیں ابھی مذکورہ گاڑی کے ٹائر بدلنے ہیں جس سے مزید اخراجات ہونا باقی ہیں ۔ گاڑیوں کی مرمت کے باعث جامعہ کراچی پر مزید مالی بوجھ بڑھ رہا ہے ۔ واضح رہے کہ جامعہ کراچی میں قائم شعبہ ٹرانسپورٹ میں ہی بسوں کی مرمت کے لیے ورک شاپس قائم ہے لیکن چھوٹی گاڑیوں کے لیے ضروری آلات نہ ہونا حیرانگی کا باعث ہے ۔ تاہم جب شعبہ ٹرانسپورٹ سے رابطہ کیا گیا تو ٹرانسپورٹ انچارج محمد دلدار خان کا کہنا تھا کہ ہائی ایس لاپتہ ہے نہ ہی آکشن کی گئی ہے بلکہ ورک شاپ میں ضروری آلات نہ ہونے باعث گاڑی مرمت کے لیے آٹو انجینئرنگ ورکس میں بھیجی گئی ہے ۔انجن کے خراب اور ٹائر تبدیل کروانے کے لیے باہر بھیجنا پڑ گیا تھا۔ محمد دلدار خان کا کہنا تھا کہ سارا کام ہوچکا ہے صرف ٹائر تبدیل کرنا رہ گیاہے 4سے 5دنوں میں گاڑی واپس آجائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ گاڑی کے لاپتہ اور آکشن ہونے کی خبر میں کوئی صداقت نہیں ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں