کرپشن میں ملوث افسران کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے،سندھ ہائیکورٹ

کرپشن  میں  ملوث  افسران  کے  خلاف  کارروائی  ہونی   چاہیے،سندھ  ہائیکورٹ

قانون کی پاسداری ضروری ،عدالت بھی بدعنوان افسران کو سزائیں دینے کی حامی ہے ،جسٹس محمد سلیم جیسر کے ریمارکسورکرز ویلفیئر بورڈ کے گریڈ 19کے تین افسران کے تبادلوں اور جونیئر افسران کو عبوری چارج دینے کے خلاف درخواستیں نمٹادیں

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ نے ورکرز ویلفیئر بورڈ کے گریڈ 19 کے تین افسران کے تبادلوں اور جونیئر افسران کو عبوری چارج دینے کے خلاف دائر درخواستیں صوبائی وزیر محنت و چیئرمین ورکرز ویلفیئر بورڈ سعید غنی کی یقین دہانی کے بعد نمٹا دیں۔ سعید غنی نے عدالت کو بتایا کہ عدالتی آبزرویشنز کی روشنی میں سابق نوٹیفکیشن واپس لے لیا جائے گا۔ جسٹس محمد سلیم جیسر اور جسٹس نثار احمد بھنبھرو پر مشتمل دو رکنی بینچ نے درخواستوں کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران صوبائی وزیر سعید غنی ذاتی حیثیت میں عدالت کے روبرو پیش ہوئے ۔ درخواست گزاروں کے وکیل احتشام ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ سعید غنی نے عدالتوں کے خلاف بیانات دیے ہیں، اس لیے ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے ۔ صوبائی وزیر سعید غنی نے عدالت کو بتایا کہ جن افسران کے تبادلے کیے گئے ہیں وہ کرپشن میں ملوث ہیں اور ورکرز ویلفیئر بورڈ میں 25 ارب روپے کی مبینہ کرپشن کا معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔

سعید غنی نے عدالت میں بیان دیا کہ وہ ذاتی طور پر اس بات پر قائل ہیں کہ کرپشن ہوئی ہے اور وہ اسے برداشت نہیں کر سکتے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کے اختیارات ہوتے تو وہ متعلقہ افسران کو براہ راست ملازمت سے فارغ کر کے جیل بھجوا دیتے ، تاہم قانون کے پابند ہونے کے باعث انہوں نے صرف معطلی اور تبادلوں کا راستہ اختیار کیا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ کرپشن میں ملوث افسران کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے ، تاہم قانون کی پاسداری بھی ضروری ہے ۔ جسٹس محمد سلیم جیسر نے کہا کہ عدالت بھی اس بات کی حامی ہے کہ بدعنوان افسران کو سزائیں ملنی چاہئیں۔ جسٹس نثار احمد بھنبھرو نے ریمارکس دیے کہ جن افسران کو عبوری چارج دیا گیا وہ متعلقہ عہدوں کے لیے اہل نہیں تھے ۔ سعید غنی نے مؤقف اختیار کیا کہ ورکرز ویلفیئر بورڈ میں افسران کی کمی ہے ، اس لیے تبادلہ کیے گئے افسران کی جگہ کسی کو تو ذمہ داری دینی تھی۔ اس پر عدالت نے ہدایت کی کہ یا تو نئے افسران بھرتی کیے جائیں یا دیگر محکموں سے خدمات حاصل کی جائیں، تاہم سینئر اور اہل افسران کو ہی اضافی چارج دیا جانا چاہیے ۔ عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ اسے کسی افسر سے ہمدردی نہیں، لیکن قانون کے مطابق کام کرنا ضروری ہے ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں