بڑی ڈکیتی کا مرکزی ملزم گرفتار،20کروڑ برآمد

بڑی  ڈکیتی کا مرکزی  ملزم  گرفتار،20کروڑ  برآمد

محمد علی عرف علی لنگڑا نے واردات کی منصوبہ بندی کی ،رقم اپنے دو گھروں میں چھپا رکھی تھی، ڈکیتی میں استعمال ہونے والا ویگو ڈالہ اور پکسس کار بھی ضبط ڈکیتی کرنے والا گروہ درجن سے زائد ارکان پر مشتمل ،پاکستان کے مختلف صوبوں کے بڑے شہروں میں بینک لوٹنے کی درجنوں وارداتوں میں ملوث رہا

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)ضلع وسطی کی پولیس نے رواں سال کی سب سے بڑی 30 کروڑ کی ڈکیتی کے کیس کو حل کرتے ہوئے مرکزی ملزم کو گرفتار جبکہ لوٹے ہوئے 20 کروڑ روپے برآمد کرلیے ۔نجی ٹی وی کے مطابق ضلع وسطی کے علاقے جوہر آباد میں چند روز قبل بینک کا کیس لے جانے والی وین سے 30 کروڑ روپے لے کر بھاگنے کی واردات ہوئی تھی۔پولیس نے پہلے مرحلے میں تین ملزمان کو گرفتار کیا جن سے تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ واردات کا مرکزی ملزم اور ماسٹر مائنڈ محمد علی عرف لنگڑا ہے ۔پولیس نے رواں سال کی بڑی ڈکیتی میں ملوث بین الصوبائی گروپ کے سرغنہ محمد علی عرف لنگڑے کو گرفتار کر کے لوٹی ہوئی رقم میں سے 20 کروڑ روپے برآمد کرلی۔اس کے علاوہ ڈکیتی میں استعمال ہونے والا ویگو ڈالہ اور پکسس کار بھی برآمد کرلی گئی ہے ۔ پولیس کے مطابق ڈکیتی کی واردات 12 جون 2026 کو جوہر آباد تھانے کی حدود میں پیش آئی تھی۔

ڈی آئی جی ویسٹ زون عرفان بلوچ نے واردات کی تفتیش کے لیے ایس ایس پی ڈسٹرکٹ سینٹرل ڈاکٹر محمد عمران خان کی سربراہی میں خصوصی ٹیم تشکیل دی تھی جس نے چند ہی دنوں میں پیشہ ورانہ مہارت سے سال کی بڑی ڈکیتی کا کیس حل کرلیا۔تحقیقات کے دوران سکیورٹی کمپنی کی کیش وین کا چیف کریو واجد ولد میرلالا واردات میں ملوث پایا گیا جس کے خلاف شواہد اکھٹے کرنے کے بعد مقدمہ درج کر کے فوری کارروائی کی گئی۔دورانِ تفتیش انکشاف ہوا کہ محمد علی عرف علی لنگڑا نے واردات کی منصوبہ بندی کی اور واردات کے بعد رقم اپنے دو گھروں میں چھپا رکھی تھی۔ پولیس کے مطابق ڈکیتی کرنے والا گروہ درجن سے زائد ارکان پر مشتمل ہے اور پاکستان کے مختلف صوبوں کے بڑے شہروں میں بینک ڈکیتی کی درجنوں وارداتوں میں ملوث رہا ہے ۔

تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ملزمان کراچی، اسلام آباد، راولپنڈی، کوئٹہ، ملتان سمیت دیگر شہروں میں کئی برسوں سے اس نوعیت کی وارداتیں کرتے رہے ہیں جبکہ گرفتار ملزم محمد علی عرف علی لنگڑا کراچی میں گروہ کا سرغنہ اور متحرک رکن ہے جبکہ دیگر ارکان مختلف شہروں میں سرگرم ہیں۔پولیس کے مطابق گرفتار مرکزی ملزم کا آبائی تعلق سوات سے ہے اور وہ عرصہ دراز سے کراچی میں مقیم ہوکر ڈکیتی کی وارداتوں کی قیادت کرتا رہا ہے ، ملزم اس سے قبل بینک ڈکیتی، لاکر توڑ کر طلائی زیورات اور ڈالر لوٹنے سمیت متعدد وارداتوں میں گرفتار ہوچکا ہے ۔پولیس کا کہنا ہے کہ واردات میں شامل دیگر ملزمان کا تعلق پاراچنار، ضلع کرم، خیبر پختونخوا سے ہے جو بقیہ لوٹی ہوئی رقم کے ساتھ فرار ہیں، جن کی گرفتاری اور رقم کی برآمدگی کیلئے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں ہیں اور وہ اپنا کام کررہی ہیں ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں