عالمی مارکیٹ میں تیل سستا، قیمتیں برقرار کیوں؟ سیلانی
قرض اتارنے کے لیے اشرافیہ کی مراعات واپس لی جائیں، مولانا بشیر فاروق عوام کیلئے پٹرول ، ڈیزل اور مٹی کا تیل مزیدسستا کیا جائے ،حکومتی فیصلے پرتبصرہ
کراچی(آئی این پی)سیلانی ویلفیئر انٹرنیشنل ٹرسٹ کے بانی اور چیئرمین مولانا بشیر فاروق قادری نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ اب جبکہ آبنائے ہرمز کے راستے تجارتی جہازوں کی آمد و رفت میں تیزی آگئی ہے اور خام تیل کی قیمتوں میں مزید کمی واقع ہورہی ہے ، تو پاکستان قیمتیں برقرار کیوں رکھی گئی ہیں۔پاکستان میںبھی عوام کے لیے پیٹرول ، ڈیزل اور مٹی کا تیل مزیدسستا کیا جائے ۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے مولانا بشیر فاروق قاری نے بعض اخباری رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کے بعد خام تیل پہلی بار 75 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گیاہے ۔ جو فروری کے آخر میں مشرق وسطیٰ جنگ شروع ہونے کے بعد پہلی بار ہوا ہے ۔انہوں نے کہا کہ عالمی ماہرین کا بھی کہنا ہے کہ تیل کی قیمتیں جنگ سے پہلے کی سطح کے قریب واپس آگئی ہیں تو پھر پاکستان میںجہاںعوام پہلے ہی شدید مہنگائی کی چکی میںپس رہے ہیں وہاں تیل کی قیمتیں گرانے میںکیا رکاوٹ ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو سوچنا چاہیئے کہ عوام کا خون کب تک نچوڑا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کو عالمی قرضوں کو اتارنے کے لیے اس سال تقریباً 8000 ارب روپے صرف سود کی مد میںادا کرنے ہیںلیکن سوال وہی ہے کہ کیا بیرونی قرضے اور سود کی ادائیگیوں کے لیے صرف عوام ہی قربانی دیتے رہیں گے ؟کیا اشرافیہ کی مراعات واپس نہیںہوں گی۔انہوں نے کہا کہ اشرافیہ کے اخراجات کم نہ کیے گئے تو ہمارے قرضوں میں اضافہ ہی ہوتا رہے گا۔